جماعت احمدیہ کا تعارف

by Other Authors

Page 77 of 687

جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 77

77 ربوہ کا تعارف ۱۹۴۷ء کو قیام پاکستان کے وقت احمدیوں کو اپنے دائگی مرکز قادیان سے ہجرت کرنا پڑی۔پاکستان ہجرت کے بعد حضرت مصلح موعود نور اللہ مرقدہ کی سب سے بڑی خواہش یہی تھی کہ فوراً قادیان کی طرز پر جماعت احمدیہ کا ایک نیا مرکز قائم کیا جائے۔جہاں قادیان اور ہندوستان کے دیگر علاقوں سے ہجرت کر کے آنے والے احمدی احباب آباد ہوسکیں اور نظام سلسلہ چل سکے۔حضرت مصلح موعود نوراللہ مرقدہ نئے مرکز کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: یہاں پاکستان پہنچ کر میں نے پورے طور پر محسوس کیا کہ میرے سامنے ایک درخت کو اکھیڑ کر دوسری جگہ لگانا نہیں بلکہ ایک باغ کو اکھیڑ کر دوسری جگہ لگانا ہے۔یعنی ہمیں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ فورا ایک مرکز بنایا جائے۔“ ( خطبہ جمعہ ۳۱ جولائی ۱۹۴۹ء) اس مرکز کے لئے زمین کی تلاش کا کام حضور نے چوہدری عزیز احمد صاحب باجوہ کے سپرد کیا۔انہوں نے مختلف جگہوں کا سروے کیا اور حضور کور پورٹ پیش کی جس میں چند جگہیں نئے مرکز کے لئے تجویز کیں۔حضور نے اپنی ایک رویا جو آپ نے ۱۹۴۱ء میں دیکھی تھی کی بناء پر دریائے چناب کے کنارے پہاڑیوں کے درمیان والی جگہ کو مرکز کے لئے پسند فرمایا اور ۲۰ ستمبر ۱۹۴۸ء کو حضور نے اس نئے مرکز کا افتتاح فرمایا:۔قادیان سے ہجرت کے بعد پاکستان آکر ربوہ جیسی عظیم الشان بستی آباد کر لینا اور جماعت احمدیہ کا دوباره مرکز تعمیر کر لینا حضرت مصلح موعود کا بہت بڑا کارنامہ ہے، جماعت لٹ لٹا کر پاکستان آئی تھی قادیان کے احمدی جگہ جگہ بکھرے ہوئے تھے۔حضور نے تھوڑے سے عرصے میں ہی ربوہ کی زمین حکومت سے حاصل کر کے ۲۰ستمبر ۱۹۴۸ء کو یہاں پر جماعت احمدیہ کے نئے مرکز کی بنیاد رکھی اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک عظیم الشان بستی قائم کر کے دکھا دی۔ربوہ کا قیام حضور کا ایک بے نظیر کارنامہ ہے دیگر مسلمان لاکھوں کی تعداد میں بھارت سے ہجرت کر کے آئے تھے ان کی تنظیمیں بھی موجود تھیں مگر کسی کو اس طرح کی بستی آباد کرنے کی توفیق نہ ملی۔سید نا حضرت مصلح موعودؓ نے ربوہ کی تعمیر کے وقت پاکستان بھر کے بڑے بڑے اخباروں کے نمائندگان کو ربوہ کی مجوزہ جگہ دیکھنے کی دعوت دی اور ربوہ کا مجوزہ نقشہ دکھاتے ہوئے تفصیلات سے آگاہ کیا۔اس موقع پر لاہور کے مشہور کالم نویس با باوقار انبالوی مرحوم نے اپنے اخبار روز نامہ ”سفینہ میں لکھا کہ:۔