جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 76
76 تقسیم ہندوستان کے بعد بعض مجبوریوں کے باعث مرکز جماعت قادیان سے ربوہ ضلع جھنگ اب ضلع چنیوٹ شفٹ کرنا پڑا لیکن جیسا کہ حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:۔ربوہ میں آجکل ہے جاری نظام اپنا پر قادیاں رہے گا مرکز مدام اپنا قادیان ہمیشہ جماعت احمدیہ کا حقیقی مرکز رہے گا۔ہر سال جلسہ سالانہ قادیان منعقد کیا جاتا ہے جس میں شرکت کے لئے ہندوستان کے مختلف علاقوں کے علاوہ بیرون ملک سے بھی بہت سے احباب تشریف لاتے ہیں۔اور مقدس مقامات کی زیارت سے اپنی روحانیت میں اضافہ کرتے ہیں۔مقدس مقامات میں ایک عظیم فضیلت بہشتی مقبرہ کو حاصل ہے جہاں ہمارے آقا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مقبرہ ہے۔اسی طرح حضرت خلیفتہ اسح الاول نو راللہ مرقدہ اور بعض دیگر جید رفقاء کے مقابر بھی ہیں۔اس کے علاوہ گلشن احمد ، بیت اقصیٰ ، بیت المبارک اور مینارة امسیح بھی زیارت کے لائق مقامات ہیں۔مہمانوں کی رہائش و طعام کے لئے دار الضیافت بھی قائم ہے جہاں ہر سال سینکڑوں مہمان آتے ہیں۔(ماخوذ از کامیابی کی راہیں چہار حصص ص ۲۴۰،۲۳۹) ہندو پاک کے مشہور صاحب قلم جناب نیاز فتحپوری صاحب مدیر ” نگار لکھنؤ جولائی ۱۹۶۰ء میں ایک روز کے لئے قادیان تشریف لے گئے۔واپسی پر انہوں نے اپنے مؤقر رسالہ ”نگار“ میں ” چند گھنٹے قادیان میں کے زیر عنوان مندرجہ ذیل تاثرات رقم فرمائے:۔۲۸۔۲۹ جولائی وہ ساعتیں جو میں نے قادیان میں بسر کیں میری زندگی کی وہ گھڑیاں تھیں۔جن کو 66 میں کبھی بھی فراموش نہیں کر سکتا۔“ مزید لکھا:۔”حیات انسانی کا ہر لمحہ زندگی کا ایک نیا درس، نیا تجربہ اپنے ساتھ لاتا ہے۔اگر زندگی نام صرف سانس کے آمدوشد کا نہیں۔بلکہ آنکھ کھول کر دیکھنے اور سمجھنے کا بھی ہے۔اور ان چند ساعتوں میں جو کچھ میں نے یہیں دیکھا وہ میری زندگی کا اتنا دلچسپ تجربہ تھا کہ اگر میرے اختیار میں ہوتا تو میں پچاس سال پیچھے ہٹ کر وہی زندگی شروع کرتا جو قادیان کی احمدی جماعت میں مجھے نظر آئی۔لیکن حیف صد حیف کہ مادیر خبر دار شدیم۔اب زندگی میں سب سے پہلے پہلی مرتبہ احمدی جماعت کی جیتی جاگتی تنظیم و عمل دیکھ کر میں ایک جگہ ٹھٹھک کر رہ گیا ہوں۔اور میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اپنی زندگی کے اس نئے تجر بہ واحساس کو کن الفاظ میں ظاہر کروں۔“