جماعت احمدیہ کا تعارف — Page 67
67 پڑھنے اور اپنے نبی کریم ﷺ پر در دو بھیجنے اور ہر روز اپنے گناہوں کی معافی مانگنے اور استغفار کرنے میں مداومت اختیار کرے گا اور دلی محبت سے خدا تعالیٰ کے احسانوں کو یاد کر کے اس کی حمد اور تعریف کو اپنا ہر روزہ ورد بنائے گا۔چہارم :۔یہ کہ عام خلق اللہ کو عموما اور مسلمانوں کو خصوصاً اپنے نفسانی جوشوں سے کسی نوع کی ناجائز تکلیف نہیں دے گا نہ زبان سے نہ ہاتھ سے نہ کسی اور طرح سے۔جم:۔یہ کہ ہر حال رنج و راحت اور عسر اور پیسر اور نعمت اور بلاء میں خدا تعالیٰ کے ساتھ وفاداری کرے گا اور بہر حالت راضی بقضاء ہوگا اور ہر ایک ذلت اور دکھ کے قبول کرنے کے لئے اس کی راہ میں تیار رہے گا اور کسی مصیبت کے وارد ہونے پر اس سے منہ نہیں پھیرے گا بلکہ آگے قدم بڑھائے گا۔م:۔یہ کہ اتباع رسم اور متابعت ہوا و ہوس سے باز آ جائے گا اور قرآن شریف کی حکومت بکلی اپنے سر پر قبول کرے گا اور قال اللہ اور قال الرسول کو اپنے ہر یک راہ میں دستورالعمل قرار دے گا۔ہفتم : یہ کہ تکبر اور نخوت کو بکلی چھوڑ دے گا اور فروتنی اور عاجزی اور خوش خلقی اور حلیمی اور مسکینی سے زندگی بسر کرے گا۔ہشتم :۔یہ کہ دین اور دین کی عزت اور ہمدردی اسلام کو اپنی جان اور اپنے مال اور اپنی عزت اور اپنی اولاد اور اپنے ہر ایک عزیز سے زیادہ تر عزیز سمجھے گا۔تم :۔یہ کہ عام خلق اللہ کی ہمدردی میں محض اللہ مشغول رہے گا اور جہاں تک بس چل سکتا ہے اپنی خدا دا د طاقتوں اور نعمتوں سے بنی نوع کو فائدہ پہنچائے گا۔دہم :۔یہ کہ اس عاجز سے عقد اخوت محض اللہ باقرار طاعت در معروف باندھ کر اس پر تاوقت مرگ قائم رہے گا اور اس عقد اخوت میں ایسا درجہ کا ہوگا کہ اس کی نظیر دنیوی رشتوں اور تعلقوں اور تمام خادمانہ حالتوں میں پائی نہ جاتی ہو۔پہلے روز چالیس احباب نے بیعت کی اس طرح ۲۳ مارچ ۱۸۸۹ء کو با قاعدہ طور پر جماعت احمدیہ کی بنیا درکھی گئی۔پھر ۱۹۰۱ء میں حضور نے ایک اشتہار کے ذریعہ اپنی جماعت کا نام ”مسلمان فرقہ احمدیہ تجویز فرمایا۔ایسا ہونا بالکل ایک الہی تصرف تھا۔اس لئے کہ امت محمدیہ میں بے شمار ایسے صاحب رؤیا وکشوف بزرگ گزرے ہیں جنہوں نے خدا تعالیٰ سے خبر پا کر بانی سلسلہ احمدیہ کی بعثت اور آپ کے ذریعہ قائم ہونی والی جماعت کی طرف اشارے کر دیئے۔چنانچہ دنیائے اسلام کے جلیل القدر بزرگ حضرت ملاعلی قاری شارح