جماعت احمدیہ کا مختصر تعارف اور امتیازی عقائد — Page 22
جماعت احمدیہ کا مختصر تعارف کی کنجی آپ کو دی گئی۔جو اس چشمہ سے آب حیات حاصل نہیں کرتا وہ محروم ازلی ہے۔جماعت احمد یہ ختم نبوت کی جو تشریح کرتی ہے وہ خود ساختہ نہیں بلکہ قرآن مجید کی آیات، احادیث نبویہ اور اقوال بزرگانِ امت سے بھی اس بات کی تصدیق ہوتی ہے۔بطور نمونہ ایک ایک مثال پیش کی جاتی ہے۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيِّنَ وَالصَّدِيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّلِحِيْنَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا (سوره نساء آیت 70) ترجمہ: اور جو بھی اللہ کی اور اس رسول کی اطاعت کرے تو یہی وہ لوگ ہیں جو اُن لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا ( یعنی ) نبیوں میں سے ،صدیقوں میں سے ،شہیدوں میں سے اور صالحین میں سے۔اور یہ بہت ہی اچھے ساتھی ہیں۔اس آیت کریمہ سے اصولی طور پر قطعیت سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت خاتم النبیین ے کے ماننے والوں میں سے اتنی نبی پیدا ہوسکتا ہے اور اسی طرح صدیق ، شہید اور صالح بھی۔پھر آپ ﷺ کا 10 ہجری میں حضرت صاحبزادہ ابراہیم کی وفات پر یہ فرمانا کہ: لَوْ عَاشَ لَكَانَ صِدِ يْقاً نَبِيًّا (ابن ماجہ کتاب الجنائز باب ماجاء فی الصلوۃ علی ابن رسول اللہ علیہ وسلم ) ترجمہ: اگر وہ (ابراہیم ) زندہ رہتا تو ضرور سچا نبی ہوتا۔واضح طور پر بتا تا ہے کہ باوجود اس بات کے کہ آیت خاتم النبیین سن 5 ہجری میں نازل ہو 22