جماعت احمدیہ کا مختصر تعارف اور امتیازی عقائد — Page 12
جماعت احمدیہ کا مختصر تعارف لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجدد ہوں۔آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اپنے آقا و مطاع سیدنا حضرت خاتم النبین ﷺ کی غلامی کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے مجھے اس زمانہ میں امام مہدی بنا کر بھیجا ہے جس کی آمد کا وعدہ قرآن مجید اور کتب حدیث میں موجود ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے مجھے مسیح موعود بنا کر بھیجا ہے اور میرے آنے سے سرور کائنات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح علیہ السلام دونوں کی روحانی بعثت ثانیہ کا وعدہ پورا ہو گیا ہے۔اس حیثیت میں آپ نے ظلمی اور بروزی رنگ میں اتنی نبی ہونے کا دعوئی بھی فرمایا۔آپ کی آمد کا مقصد الہام الہی میں یوں بیان ہوا ہے: يُحْيِ الدِّينَ وَيُقِيمُ الشَّرِيعَةَ (براہین احمدیہ حصہ چہارم ، روحانی خزائن جلد اول صفحہ 590 حاشیه در حاشیہ نمبر 3 مطبوعہ 2008) یعنی احیائے دین اسلام اور قیام شریعت اسلامیہ۔آپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک روحانی جماعت کی بنیاد رکھی اور 23 مارچ 1889 کو با قاعدہ بیعت کے سلسلہ کا آغاز فرمایا۔آپ کی قائم کردہ جماعت احمد یہ آج اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ایک عالمگیر تناور درخت کی صورت اختیار کر چکی ہے اور اکناف عالم میں، دنیا کے 210 ممالک میں اس کی مضبوط شاخیں قائم ہو چکی ہیں اور یہ سلسلہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے دن بدن وسعت پذیر ہے۔جماعت احمد یہ اپنے عالمگیر ٹیلی ویژن Muslim Television Ahmadiya International ) MTA) کے پانچ چینلز کے ذریعہ ایک عالمگیر آواز بن چکی ہے جو دن رات دنیا کے کونے کونے میں گونجتی ہے۔آپ نے 85 سے زائد کتب تصنیف فرما ئیں جو روحانی خزائن کے نام سے شائع شدہ ہیں۔12