جلسہ سالانہ — Page 68
68 ان کے آنے کا مقصد صرف میل ملاقات ہوتا ہے۔اس جلسہ کی برکات کے حصول کے لئے ضروی ہے کہ مقاصد کو مد نظر رکھتے ہوئے تینوں دن حاضر رہیں اور ہر لحاظ سے مستفید ہوں۔جو گھر کے عزیز رشتہ دار ہوتے ہیں ان کو اگر شوق سے زیادہ بھی ٹھہرا لیا جائے تو وہ ہرگز مہمان نوازی نہیں بلکہ اقرباء کے حق میں آتے ہیں۔بلند آواز سے تو تو میں میں کرنا یا ٹولیوں میں پھر کر قہقہے بلند کرنا اچھی عادت نہیں۔بعض اوقات مہمان یہ سمجھتا ہے کہ شاید مجھ پر ہنسا جا رہا ہے۔پچھلے سالوں میں ایک جلسہ کے موقع پر بالکل ایسا ہی ہوا اور اس مہمان نے مجھ سے شکایت کی کہ مجھ پر میرے رنگ پر، میری نسل پر ہنسا جا رہا تھا حالانکہ بننے والوں کا دور کا بھی یہ خیال نہیں تھا۔بہر حال ہنسیں تو احتیاط سے نہیں۔یعنی بہت اونچی آواز سے قہقہے نہ لگا ئیں تا کہ سننے والے یہ نہ سمجھیں کہ آپ ان پر ہنس رہے ہیں۔اگر کسی مہمان کو اپنی کار وغیرہ میں بٹھا ئیں تو ہر گز کرایہ کے طور پر نہ ایسا کریں ان سے کسی قسم کے کرایہ کا مطالبہ جائز نہیں۔مہمانوں کی خدمت اپنا شعار بنا ئیں اور محبت، خلوص و قربانی کے جذبہ سے ان کی خدمت کریں۔ذکر الہی اور درود شریف پڑھنے میں اپنا وقت گزاریں اور التزام کے ساتھ نماز با جماعت کی پابندی کریں۔لنگر خانہ میں نماز کی ادائیگی کا انتظام ہونا چاہیئے اور پہرہ دار بھی ضرور نماز ادا کریں۔ان کے افسران کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ اس کا خیال رکھیں۔فضول گفتگو سے اجتناب کریں۔جس حد تک ممکن ہو جلسہ کی کارروائی وقار اور خاموشی سے سنیں۔وقت کی پابندی کا خیال رکھیں۔جلسہ کی تقریروں کے دوران باہر کھڑے ہو کر آپس میں باتیں نہ کریں۔صفائی کا خیال رکھیں مسجد، رہائش گاہ جلسہ گاہ اور سارا ماحول صاف ستھرا رکھنے میں تعاون فرمائیں۔اپنے ساتھ بیگ میں یا جیب میں ایک خالی پلاسٹک کا تھیلا رکھ لیا کریں اور