جدید علم کلام کے عالمی اثرات

by Other Authors

Page 75 of 156

جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 75

تنقید کی جو علوم جدیدہ اور سائنس کی تعلیم کو کفر سمجھتے تھے۔آپ نے یہ کہکو فکر و اجتہاد کی بے شمار راہیں کھول دیں کہ : ئیں اُن مولویوں کو غلطی پر جانتا ہوں جو علوم جدیدہ کی تعلیم کے مخالف ہیں۔وہ دراصل اپنی غلطی اور کمزوری کو چھپانے کے لیے ایسا کرتے ہیں۔اُن کے ذہن میں یہ بات سمائی ہوئی ہے کہ علوم جدیدہ کی تحقیقات اسلام سے باطن اور گراہ کر دیتی ہے اور وہ یہ قرار دیئے بیٹھے ہیں لوگو با عقل اور سائنس اسلام سے بالکل متضاد چیزیں ہیں۔چونکہ خود فلسفہ کی کمزوریوں کو ظاہر کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اس لیے اپنی اس کمزوری کو چھپانے کے لیے یہ بات تراشتے ہیں کہ علوم جدیدہ کا پڑھنا ہی جائز نہیں۔اُن کی رُوح فلسفہ سے کانپتی ہے اور نئی تحقیقات کے سامنے سجدہ کرتی ہے۔مگر وہ پنچا فلسفہ اُن کو نہیں ملا جو الہام الہی سے پیدا ہوتا ہے جو قرآن کریم میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے وہ اُن کو اور صرف انہیں کو دیا جاتا ہے جو نہایت تذکل اور نیستی سے اپنے تئیں اللہ تعالیٰ کے درولو زیے پر پھینک دیتے ہیں۔جن کے دل اور دماغ سے متکبرانہ خیالات کی تعفن نکل جاتا ہے اور جو اپنی کمزوریوں کا اعتراف کرتے ہوئے گڑ گڑا کر نیچی عبودیت کا اقرار کرتے ہیں۔پس ضرورت ہے کہ آجکل دین کی خدمت اور اعلائے کلمۃ اللہ کی غرض سے علوم جدیدہ حاصل کرو اور بڑے جد و جہد سے حاصل کرو لیکن مجھے یہ بھی تجربہ ہے جو بطور انتباہ میں بیان کر دینا چاہتا ہوں کہ جو لوگ ان علوم میں میں یکطرفہ پڑ گئے اور ایسے محو اور نمک