جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 65
ہم اُسے بے چین پاتے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ و کسی ایسی کھوئی ہوئی چیز کی تلاش میں ہے جس کا پتہ فانی دنیا میں نہیں ملتا۔اسلام اپنے گہرے رنگ کے ساتھ اس پر چھایا ہوا ہے کبھی وہ آریوں سے مباحثے کرتا ہے کبھی حمایت و حقیقت اسلام میں وہ مبسوط کتابیں لکھتا ہے۔۱۸۸۶ء میں بمقام ہوشیار پور آریوں سے جو مباحثات انہوں نے کئے تھے اُن کا لطف اب تک دلوں سے محو نہیں ہوا۔غیر مذاہب کی تردید اور اسلام کی حمایت میں ہونا در کتا بیں نہوں نے تصنیف کی تھیں ان کے مطالعہ سے جو وجہ پیدا ہوا وہ اب تک نہیں اُترا۔اُن کی ایک کتاب براہین احمدیہ نے غیر مسلموں کو مرعوب کر دیا اور اسلامیوں کے دل بڑھائے اور مذہب کی پیاری تصویر کو ان آلائشوں اور گرد و غبار سے صاف کرکے دنیا کے سامنے پیش کیا جو مجاہیں کی تو ہم پرستیوں اور فطری کمزوریوں نے چڑھا دیئے تھے۔غرضکہ اس تصنیف نے کم از کم ہندوستان کی مذہبی دنیا میں ایک گونج پیدا کر دی جس کی صدائے بازگشت ہمارے کانوں میں اب تک آ رہی ہے۔گو بعض بزرگان اسلام اب براہین احمدیہ کے برا ہونے کا فیصلہ دے دیں محض اس وجہ سے کہ اس میں مرزا صاحب نے اپنی نسبت بہت سی پیشگوئیاں کی تھیں اور بطور حفظ ما تقدیم اپنے آئیندہ دعاوی کے متعلق بہت کچھ مصالحہ فراہم کر لیا تھا لیکن اسکے بہترین فیصلہ کا وقت ۱۸۸۰ء تھا جبکہ وہ کتاب شائع ہوئی مگر اُس وقت