جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 5
° بسم الله الرحمنِ الرَّحِيم جدید علم کلام کے عالمی اثرات ساقی کوثر نبی اتنی سید نا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دائمی برکات کو اگر غیر محدو د سمندر سے تشبیہ دی جائے تو احمدیت کا جدید علم کلام اس سمت در کا محض ایک قطرہ ہے۔جو پچھلی صدی میں رب العرش کی بارگاہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کو عین اس وقت عطا ہوا جبکہ باطل تحریکیں مربع مسکون پر طوفان کی طرح چھا گئی تھیں۔خدا نے چاہا کہ ان کا مقابلہ اسی ایک قطرہ سے کر کے دکھا دے اور اپنے سب بندوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قدمون تلے جمع کر دے۔یہ آسمانی فیصلہ اسی قادر و توا نا خدا کا تھا جس نے ابابیل کے ہاتھوں اصحار الفیل کو پاش پاش کیا ، اپنے محبوب کی خاطر لکڑی کے جائے کو ایک ناقابل تسخیر قلعہ میں تبدیل کر دیا۔اور چند سنگریزوں سے خوفناک آندھی پیدا کردی۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے پیش فرمودہ جدید علم کلام نے گزشتہ صدی میں اقوام عالم پر نہایت دوررس اور زبر دست اثرات ڈالے ہیں جو اصولی طور پر تین پہلوؤں پرمشتمل ہیں :- اول - غیر شعوری اثرات دوم - عملی اثرات سوم۔نظریاتی اثرات