جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 36
۳۶ سو واضح ہو کہ اسلام کو پیدا ہوتے ہی بڑی بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا اور تمام قومیں اس کی دشمن ہوگئی تھیں۔جیسا کہ یہ ایک معمولی بات ہے کہ جب ایک نبی یا رسول خدا کی طرف سے مبعوث ہوتا ہے اور اس کا فرقہ لوگوں کو ایک گروہ ہونہار اور راستباز اور با ہمت اور ترقی کرنے والا دکھائی دیتا ہے تو اُس کی نسبت موجود قوموں اور فرقوں کے دلوں میں ضرور ایک قسم کا بغض اور جہد پیدا ہو جایا کرتا ہے۔بالخصوص ہر ایک مذہب کے علماء اور گدی نشین تو بہت ہی بغض ظاہر کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔اور سراسر نفس کے تابع ہو کر ضرر رسانی کے سوچتے ہیں بلکہ بسا اوقات وہ اپنے دلوں میں محسوس بھی کرتے ہیں کہ وہ خدا کے ایک پاک دل بندہ کو ناحق ایذا پہنچا کر خدا کے غضب کے نیچے آگئے ہیں اور اُن کے احتمال بھی جو مخالف کارستانیوں کے لیے ہر وقت اُن سے سرزد ہوتے رہتے ہیں اُن کے دل کی قصور وار حالت کو اُن پر ظاہر کرتے رہتے ہیں مگر پھر بھی حسد کی آگ کا نیز انجن عداوت کے گڑھوں کی طرف اُن کو کھینچے لیے جاتا ہے۔یہی اسباب تھے جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں مشرکوں اور یہودیوں اور عیسائیوں کے عالموں کو نہ محض حق کے قبول کرنے سے محروم رکھا بلکہ سخت عداوت پر آمادہ کر دیا لہذا وہ اس فکر میں لگ گئے کہ کسی طرح اسلام کو صفحۂ دنیا سے مٹا دیں۔اور چونکہ مسلمان اسلام کے ابتدائی زمانہ میں تھوڑے تھے اس لیے اُن کے مخالفوں نے بباعث اس تکبیر کے جو فطرتاً ایسے فرقوں کے دل اور دماغ میں جاگزیں ہوتا ہے جو اپنے تئیں