جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 17
لا میں اُن کی مسجدوں اور اُن کے اخبارات و رسائل کی فہرست اور اسی قسم کی دوسری سرگرمیوں کا ذکر ان صفحات میں نظر آجائے گا۔اور ہم لوگوں کے لیے جو اپنی کثرت تعداد پر نازاں ہیں ایک تازیانہ عبرت کا کام دے گا کاش ! ان لوگوں کے عقائد ہمارے جیسے ہوتے اور ہم لوگوں کی سرگرمی عمل اُن کی مبیسی یا (صدق جدید ، رجون ۶۱۹۵۷ ) بنگلور کے ایک فرض شناس اور تعلم دوست ایڈووکیٹ جناب اے۔جے خلیل صاحب نے مدیر صدق جدید کے نام ایک خط میں لکھا :- یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ جولوگ احمدی یا قادیانی نہیں ہیں وہ پیام الہی کی چار دانگ عالم میں تبلیغ کرتے ہیں بہت ہی کو تاہ ہیں۔میں کوئی سولہ برس سے اس فرض فراموشی کا کفارہ ادا کرنے ہیں کلام الہی کا ترجمہ عالمی زبانوں میں کرنے اور اس کی طبع و اشاعت ہیں مصروف ہوں لیکن خود میرے اوپر قادیانیت کا الزام لگا اور ثبوت میں یہی واقعہ پیش ہوا کہ یہ قرآنی تبلیغ کرتا رہتا ہے اسلئے کہ یہ کام تو بس قادیانی ہی کرتے رہتے ہیں۔“ جناب خلیل صاحب کے خط کے اس اقتباس کو نقل کرنے کے بعد جناب مولانا عبد الماجد صاحب دریابادی ایڈیٹر صدق جدید تحریر فرماتے ہیں :- " مبارک ہے وہ دین کا خادم ہو تبلیغ و اشاعت قرآن کے جرم میں قادیانی یا احمد بی قرار پائے اور قابل سک ہے وہ احمدی یا قادیانی جن کا تمغہ امتیاز ہی خدمت قرآن یا قرآنی ترجموں کی طبع و اشاعت کو سمجھ