جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 153
۱۵۳ سیلات سے دوبارہ ملاقات چند دن کے بعد موصل جانے کا حکم ملا۔وہاں سے ارومیہ جانے کا حکم ملا کہ وہاں جا کر سلاط پاشا سے ملوں جو روسیوں کی اسیر می سے رہا ہوں ارومیہ پہنچ گیا تھا۔پھر تو بہت ہی خوشی ہوئی۔چونکہ اندرون ارومیه 9 منزل تھا۔مگر لوجہ جنگ راستے ویران ہو چکے تھے۔میں دس چھروں کا قافلہ لے کو اردو میں روانہ ہوا۔تیسری منزل پر معلوم ہوا کہ برفباری ہو چکی ہے اور راستہ بند تھا۔لیکن مجھے سیلاط سے ملنے کا شوق تھا اس لیے میں صرف اپنا ٹولے کم روانہ ہو گیا اور خدا خدا کر کے گیارھویں دن وہاں پہنچا۔وہاں کے گورنر سے ملے۔اس نے مہمانداری کی لیکن میں نے کہا کہ میں سیلاط کا مہمان ہوں۔انہوں نے کہا آج کل ان کا مقام چھے روز کے راستے پر شمال کی طرف ہے۔میں نے کہا کہ اچھا میں آج اُن کے بنگلے میں ہی رہوں گا۔یکس نے ایک آدمی کو سیلاط کے پاس بھیجا اور وہ جلد ہی مجھے ملنے کے واسطے آگئے۔اب اُن کا رنگ رُوپ بگڑا ہوا تھا اور میں پہچان نہ سکا۔آپ نے فرمایا میں سیلاطہ ہوں۔پھر کیا تھا خوب ملے۔رات بھر باتیں کرتے رہے۔ایک ماہ میں اُن کے پاس رہا۔بارہا احمدیت کا ذکر ہوتا رہا اور مجھے ملامت بھی کی کہ تم کوئی رسالہ نہیں لائے۔میں نے کہا مجھے معلوم نہ تھا کہ لیکس نے پھر آپ سے ملنا ہے۔ایک دن بڑے بڑے لوگ، قاضی دین، اُن کی خدمت میں بیٹھے تھے۔اس دوران اُنہوں نے ایک تقریر فرمائی جو حضرت احمد کی تعریف میں تھی۔