جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 152
۱۵۲ سے کہ دریافت کیا تھا۔اور جب ہندوستان کا ذکر آیا تو انہوں نے سب سے پہلے حضرت مرزا احمد کی نسبت دریافت کیا اور احمدی جماعت کی نسبت گفتگو شروع کر دی۔وہ احمد نیت اتنے واقف تھے کہ مجھے تو پتہ بھی نہ تھا۔پھر انہوں نے بعض سوالات کیئے لیکن میں نے لاعلمی ظاہر کی۔اور ان کا اتنا رعب مجھ پر طاری ہوا کہ میں ان سے یہ بھی نہ پوچھ سکا کہ حضرت احمد سے آپ کیوں محبت رکھتے ہیں۔دنیا میں سیلاح عجیب غریب انسان ہے۔عربی زبان کا ماہر اور بہت ہی عقلمند آدمی ہے۔وہ ہمیشہ اسیر ہی رہا، آٹھ برس کا تھا کہ ترکوں نے قید کیا۔اسکے بعد اکثر قید میں رہا۔اس کی عمر اس وقت ۲۸ سال کی تھی۔بڑی حسرت کے ساتھ میں اس سے رخصت ہوا۔دوسرے دن سُنا کہ روسیوں نے اُسے پھر قید کر دیا ہے اور ماسکولے گئے۔مختلف سفر اس کے بعد بہت سے شہروں سے ہوتے ہوئے ہر مہینے میں بوشہر آئے اور خوشی تھی کہ ہندوستان پہنچیں گے لیکن آتے ہی بھرے کا حکم ملا قریب ایک ماہ وہاں رہے اس کے بعد ہندوستان واپس آئے۔چند روز بعد مهمند میں جانا پڑا۔اس کے بعد بندرعباس جو ایران کا ہند گاہ ہے وہاں جانے کا حکم ملا۔وہاں چند دن رہ پھر ہندوستان آکر پھر بغداد پہنچا۔لڑائی ختم ہوچکی تھی۔