جدید علم کلام کے عالمی اثرات

by Other Authors

Page 142 of 156

جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 142

۱۴۲ یہ لوگ پرانے عیسائی مذہب کے ہیں۔جبش میں مسلمان بھی ہیں مگر مذہب سے بے خیبر باقی افریقہ کے لوگ اکثر یا مذہب ہیں۔اس کے بعد ہمارا سفر جنگلیوں میں رہا۔جو اکثر ننگے رہتے تھے۔جب ہم جنگل قطعے پر پہنچے تو وہاں کے سردار کا بھائی شاہ طینک کے حکم سے ہم لوگوں کی مدد کے واسطے آیا۔بہت دن ہمارے ہمراہ رہا۔یہ ہمیشہ میرے پاس آکر کہا کرتا تھا کاش میرے بادشاہ کے ہاں تمہارے جیسے ہوتے۔یہ بھی لاند رب تھا۔میں نے اس کو بذریعہ ترجمان کہا کہ سردار گلگلہ تم لوگ کیوں ایک مذہب اختیار نہیں کرتے۔اس نے کہا ہمارے بزرگوں سے یہ بات چلی آتی ہے کہ ہمارا پیشوا بہت خوبصورت تھا اُس نے ہم لوگوں کو ایک کتاب دی تھی مگر اس کو ایک گائے کھا گئی۔اُس دن سے ہما را دستور ہے کہ جب دوسرے کو گائے دیتے ہیں تو اس سے یہ تاکید کر دیتے ہیں کہ جب اس کو مارو یا مرے تو اس کا شکم ضرور چاک کر کے دیکھ لینا اور کتاب کو تلاش کرنا مگر ابھی تک ہمیں یہ کتاب نہیں ملی لیکن ہمارے پیشوا نے ہمارے بزرگوں کو یہ بھی کہہ دیا تھا کہ اگر تم سے کتاب گم ہو جاوے اور تم کو نہ لے تو ہر سال نہ ہونا اور شمال مشرق کی طرف مراک نے ہاتھ اٹھایا اور کہا کہ ہمارے پیشوا نے ہم سے بزرگوں کو بتایا تھا کہ اس طرف ایک شہر قودی جو بہت دُور ہے وہاں ایک آدمی آئے گا اور یہ کتاب وہاں ہی مل سکے گی۔وہاں سے شمال مشرق میں، ہندوستان ہے۔کہیں نے کہا کہ تم لوگ جاؤ اور قودی شہر کو تلاش کرو اور وہاں سے کتاب سے آؤ۔اس نے کہا کہ ہمارے بزرگوں کی زبانی معلوم ہوا ہے کہ قودی بہت دُور جگہ ہے اور راستے میں سمندر ہے ہم وہاں تک پہنچ نہیں سکتے۔وہاں کے ہادی کے آدمی کسی زمانے میں خود ہمارے تک آئیں گے اور سب پتہ بتائیں گے۔پھر اس نے کہا کہ نہ معلوم اس وقت تک میں زندہ بھی ہوں گا یا نہیں جب اس بادی کے