جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 124
ذرائع کی کثرت کا ناگزیر نتیجہ یہ ہے کہ تناقضات اور اختلافات پیدا ہو گئے ہیں ان کی بہت سی مثالیں پیش کی جاچکی ہیں۔اناجیل کے مصنفین کا (جب یسوں میسج کے متعلق گفتگو کرتے ہیں، بعض واقعات کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں وہی رویہ ہوتا تھا جو اپنی بیا نیہ نظموں میں فرانسیسی متوسط دور کے ادب کے شعر کا ہوتا تھا۔نتیجہ اس کا یہ تھا کہ واقعات ہر انفرادی بیان کرنے والے کے نقطہ نظر کو ظاہر کرتے تھے اور اس لیے اکثر حالتوں میں جو واقعات بیان کیئے جاتے تھے اُن کا استناد بے انتہا مشکوک وشتہ ہو گیا ہے۔اس چیز کے پیش نظر یہودی عیسائی صحیفوں میں سے اُن چند بیانات کا جو جدید علومات سے کچھ علاقہ رکھتے ہیں جائزہ ہمیشہ اس حزم و احتیاط سے لینا چاہیے جو ان کے استناد کی مشتبہ نوعیت کا اقتضا ہے۔تضادات، ناممکنات اور تناقضات جو جدید سائنسی معلومات سے ہوتے ہیں اُن کو اُن الفاظ میں یہ آسانی بیان کیا جا سکتا ہے جن کے بارے میں صدر میں بتایا جا چکا ہے لیکن عیسائیوں کو زیادہ حیرت اس وقت ہوتی ہے جب وہ راس بات کو محسوس کرتے ہیں کہ جدید مطالعہ کے بہت سے بدیہی نتائج میں دھوکہ دینے کی غرض سے متعدد سر کاری شارحین کی ایسی مسلسل اور دور رس کوششیں رہی ہیں کہ انہوں نے عذرخواہانہ ترنم ریزی سے نغمہ کے سروں کو ترتیب دے کر بڑی چال کی کے ساتھ منطقی نوعیت کے مداریوں کا کردارادا کیا ہے۔اس کی واضح مثال حضرت یسوع مسیح کے وہ نسب نامے ہیں جو متی اور لو قانے دیتے ہیں جن میں باہم تضاد ہے اور جو سائنسی اعتبار سے ناقابل قبول ہیں۔بعض ایسی مثالیں پیش کی گئی ہیں جن سے اس رویہ کا صاف طور پر اظہار ہوتا ہے۔یوحنا کی انجیل پر خصوصی تو یہ دی جانی چاہئیے اس لیے کہ اس میں اور ریاقی تین انجیلوں کے درمیان بڑے