جدید علم کلام کے عالمی اثرات

by Other Authors

Page 123 of 156

جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 123

۱۲۳ دیتی ہے وہ شکل سے حقیقت پر مبنی قرار دی جاسکتی ہے۔ہم نے اُن حالات این نمانوں اور ان طریقوں کا جائزہ لیا ہے جن میں عہد نامہ قدیم ان جیل اور قرآن کے عناصر کو جمع کیا گیا اور تحریر میں لایا گیا۔وہ حالات جو ان الہامی صحیفوں کے وجود میں آنے کے وقت تھے آپس میں ایک دوسرے سے بڑی حد تک مختلف تھے جو ایک ایسی حقیقت ہے کہ ان متون اور ان کے مضامین کے بعض پہلوؤں کے استفاد سے اور متعلق بے انتہا را ہمیت کی حامل ہے۔محمد نامه قدیم ایسی متعدد ادبی تحریروں پر مشتمل ہے جو تقریباً نو سو سال کی مدت میں لکھی گئیں۔یہ ایک انتہائی تغیر یکساں اور مختلف النوع پچی کاری کا کام ہے جس کے ٹکڑوں کو صدیوں کے دوران انسان نے بدل دیا ہے۔جو چیز پہلے سے موجود تھی اس میں کچھ حصوں کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔چنانچہ آج یہ بتانا بعض اوقات نہایت مشکل ہو جاتا ہے کہ ابتداء وہ کہاں سے آئے تھے۔انا جیل کا مقصد حضرت یسوع مسیح کے اقوال و افعال کے ذریعہ لوگوں کو وہ تعلیمات پہنچانا تھا جو وہ اپنی حیات دنیوی کے مشن کی تکمیل کے وقت لوگوں کو دنیا چاہتے تھے۔بدقسمتی سے اناجیل کے مصنفین ان معلومات کے جو انہوں نے درج کیں عینی شاہد نہیں تھے وہ صرف ترجمان تھے جنہوں نے ان معلومات کا اظہار کیا جو سیدھے طریقے پریسی خبر تو ہیں جن کو مختلف بیوی، عیسائی فرقوا ن حضرت یسوع مسیح کی قومی زندگی سے تعلق محفوظ کیا تھا اور جو زبانی روایت اور ایسی تحریروں کے ذریعہ منتقل ہوئی تھیں جن کا آج کوئی وجود نہیں ہے اور جو بانی دایت اور قطعی متون کے بیچ میں ایک درمیانہ درجہ تھا۔آج اس روشنی میں یہودی عیسائی صحف کا جائزہ لینا چاہیے اور معروضی طریقہ اختیار کرنے کے لیے وہ کلاسیکی تصور ترک کر دینا چاہئے تو ماہرین نے تفاسیر میں پیش کیا ہے۔