جدید علم کلام کے عالمی اثرات

by Other Authors

Page 116 of 156

جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 116

114۔اور سائنس میں بالکل اختلاف نہیں بلکہ مذہب بالکل سائنس کے مطابق ہے اور سائنس خواہ کتنی ہی عروج پکڑ جاوے مگر قرآن کی تعلیم اور اصول اسلام کو ہرگز ہرگز نہیں جھٹلا سکے گی " اختبار الحکم قادیان ۲۰ مئی ۱۹۰۸ء ملفوظات جلد دهم ۴۳۵ مطبوعه جنوری ۶۱۹۶۷ ربوده) پروفیسر ریگ نے بعد میں اسلام قبول کر لیا اور مرتے دم تک نہایت ثابت قدمی سے عقیدہ پر قائم رہے۔(ذکر حبیب صفحہ ۲۲۲ مصنفہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب ) یورپ کے ممتاز سائنسدان چانس اپنے ٹاونسن صاحب میسا چوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں طبیعیات کے پروفیسر ہیں ۱۹۶۴ء میں طبعیات میں ہی اُن کو نوبل پرائز کا اعزاز ملا۔مسٹر چارلس اپنے ایک فکر انگیز مقالہ بعنوان مذہب اور سائنس مستقبل میں لکھتے ہیں میں لکھتے ہیں :- میرے نزدیک سائنس اور مذہب دونوں کی حیثیت آفاقی ہے اور بنیادی طور پر دونوں بے حد مشابہ ہیں " اگر سائنس و مذہب وسیع طور پر اس قدر مماثل ہیں اور اپنے خود ساختہ تنگ دائروں تک محدود نہیں تو کبھی نہ کبھی وہ واضح طور پر ایک دوسرے میں مدغم ہو جائیں گے۔مجھے یقین ہے کہ ان دونوں کا اتحاد نا گزیر ہے۔کیونکہ دونوں کا ئنات کے فہم کے لیے انسان کی کوششوں کے منظر ہیں اور نمائی طور پر دونوں کا موضوع ایک ہی ہے۔جوں جوں ان میں سے کسی ایک دائرے میں ہمارا علم بڑھتا جائے گا اُسی قدر دونوں کی بانہی قرابت ناگزیر ہوتی جائیگی۔