اتمام الحجّة — Page 53
اتمام الحجة ۵۳ اردو تر جمه لعنة الله على الخائنين الكاذبين یہ بات نہایت سیدھی اور صاف تھی کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت فلما تو فیتنی کو اسی طرح اپنی ذات کی نسبت منسوب کر لیا جیسا کہ وہ آیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف منسوب تھی اور منسوب کرنے کے وقت یہ نہ فرمایا کہ اس آیت کو جب حضرت عیسی کی طرف منسوب کریں تو اس کے اور معنے ہوں گے اور جب میری طرف منسوب ہو تو اس کے اور معنے ہیں۔حالانکہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نیت میں کوئی معنوی تغییر و تبدیل ہوتی تو رفع فتنہ کے لئے یہ عین فرض تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس تشبیہ تمثیل کے موقعہ پر فرما دیتے کہ میرے اس بیان سے کہیں یوں نہ سمجھ لینا کہ جس طرح میں قیامت کے دن فلما توفیتنی کہ کر جناب الہی میں ظاہر کروں گا کہ بگڑنے والے لوگ میری وفات کے بعد بگڑے۔اسی طرح حضرت مسیح بھی فلما توفیتنی کہ کر یہی کہیں گے کہ میری وفات کے بعد میری امت کے لوگ بگڑے کیونکہ فلما توفیتنی سے میں تو اپنا وفات پانا مراد رکھتا ہوں لیکن مسیح کی زبان سے جب فلما توفیتنی نکلے گا تو اس سے وفات پا نا مراد نہیں ہوگا بلکہ زندہ اٹھایا جانا مراد ہوگا۔لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرق کر کے نہیں دکھلایا جس سے قطعی طور پر ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں موقعوں پر ایک ہی معنے مراد لئے ہیں۔پس اب ذرا آنکھ کھول کر دیکھ لینا چاہیئے کہ جبکہ فلما تو فیتنی کے لفظ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عیسی دو نو شریک ہیں گویا یہ آیت دونو کے حق میں وارد ہے تو اس آیت کے خواہ کوئی معنے کر و دو نو اس میں شریک ہوں گے۔سوا گر تم یہ کہو کہ اس جگہ توفی کے معنے زندہ آسمان پر اٹھایا جانا مراد ہے تو تمہیں اقرار کرنا پڑے گا کہ اس زندہ اٹھائے جانے میں حضرت عیسی کی کچھ خصوصیت نہیں بلکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی زندہ آسمان پر اٹھائے گئے ہیں کیونکہ آیت میں دونو کی مساوی شراکت ہے۔لیکن یہ تو معلوم ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم زندہ آسمان پر نہیں اٹھائے گئے بلکہ وفات پاگئے ہیں اور مدینہ منورہ میں آپ کی قبر مبارک موجود ہے تو پھر اس سے تو بہر حال ماننا پڑا کہ حضرت عیسی بھی وفات پاگئے ہیں۔اور