اتمام الحجّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 45 of 82

اتمام الحجّة — Page 45

اتمام الحجة ۴۵ اردو تر جمه هذا ما كتبنا وألفنا لك یہ ہے ہماری تحریر اور کتاب جو ہم نے تمہارے الكتاب، فإذا وصلك فأمل لئے تالیف کی۔پس جب تمہیں یہ ملے تو اس کا الجواب۔وحاصل الكلام أنا جواب لکھو۔خلاصہ کلام یہ کہ ہم مقابلے کے لئے قائمون للخصام، لنذيقك تیار ہیں تا کہ ہم تمہیں تمہاری تیراندازی کا مزا جزاء السهام، ومن آذی چکھائیں۔اور جس نے شرفاء کو اذیت دی تو الأحرار فأباد نفسه وأبار اُس نے اپنے تئیں تباہ و برباد کر لیا۔میری بات فاسمع منى المقال، إنى أرقب سنو! میں اس انتظار میں ہوں کہ تم انعامی رقم جمع أن تجمع المال ، فإذا جمعت کرو۔جب تم پیسے جمع کر لو اور مطالبہ پورا کر لو۔تو وأتممت السؤال، فاعلم أن پھر جان لو کہ احمد تم پر حملہ آور ہو گیا اور تمہیں أحمد قد صال وأراك الوبال و بال اور عبرت دکھا دی۔اے نادار ! عیسی کی والنكال۔يا مسكين إن موت موت بدیہیات میں سے ہے اور اس سے انکار عيسى من البديهيات، وإنكاره کرنا بہت بڑی جہالت ہے مگر تمہارے دل کو أكبر الجهلات، ولكن صدئ زنگ لگ چکا ہے اور پر دے دبیز ہو چکے ہیں پس قلبك وغلظ الحجاب تو نے انکار کیا اور تجھ پر تمام دروازے بند ہو گئے فردّدت و تقاذفت بك جس کی وجہ سے تم نصیحتوں کی طرف کان نہیں دھر الأبواب، فلا تصغَى إلى العظات رہے اور طیش میں لانے والے کلمات کی طرح ويؤذيك الحق كالكَلِم حق تجھے تکلیف دیتا ہے۔تمہیں تمہارے رسالے المحفظات، وأرداك تباهيك پرفخر و مباہات نے ہلاک کیا اور یہی تمہاری تباہی بكتابك وهو أصل تبابك کا اصل سبب ہے۔میں تمہارے راز اور اس کے وإني عرفت سرك و معماه، معمہ کو جان چکا ہوں۔خواہ دوسرے لوگ اس وإن لم يدر القوم معناہ کے معنی (مقصد ) کو نہ جان پائے ہوں