اتمام الحجّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 18 of 82

اتمام الحجّة — Page 18

اتمام الحجة ۱۸ اردو تر جمه وفكر كأولى التقوى والارتياع ہو بلکہ متقیوں اور پرہیز گاروں کی طرح وذكر قول الإمام أحمد الذي سوچ۔نیز امام احمد جو خوف خدا ر کھنے والے خاف الله وأطاع، قال من ادعى اور اُس کے اطاعت گزار تھے اُن کے اس الإجماع فهو من الكاذبين۔ومع قول کو بھی یاد رکھ۔انہوں نے فرمایا کہ جو ذلك نجد كثيرا من الاختلافات اجماع کا دعوی کرے وہ جھوٹوں میں سے الجزئية في الأئمة الأربعة، ونجدها ہے۔علاوہ ازیں ہم ائمہ اربعہ میں بہت سے خارجة من إجماع الأئمة، فما جزوى اختلافات پاتے ہیں اور انہیں ائمہ تقول في تلك المسائل وفی کے اجماع سے خارج پاتے ہیں۔پس ان قائلها؟ أأنت تقر بغوائلها، مسائل اور ان کے قائلین کے متعلق تم کیا أو أنت تجوّز العمل عليها كہتے ہو؟ کیا تم ان مسائل کی ہلاکت والتمسك بها ولا تحسبها من آفرینیوں کے اقراری ہو یا ان پر عمل کرنے خيالات المتبدعين؟ وأنت تعلم اور اُن پر مضبوطی سے جم جانے کو جائز قرار أن الإجماع ليس معها ومع أهلها، دیتے ہو؟ اور انہیں بدعتیوں کے خیالات تصور وكل ما هو خارج من الإجماع نہیں کرتے ؟ اور تم جانتے ہو کہ اجماع اس فهو عندك فاسد ومتاع کاسد عقیدے کا اور اس عقیدے کے حاملین کا وتحسب قائلها من الملحدین ساتھ نہیں دیتا۔جبکہ ہر وہ امر جوا جماع سے الدجالين۔وإن كنتَ تزعم خارج ہو وہ تمہارے نزدیک فاسد اور نکما مال ہے اور أن الإجماع قد انعقد على إس (عقیدہ ) کے قائلین کو تم ملحد و دجال سمجھتے ہو حيات عيسى المسيح بالسند اور اگر تمہارا یہ خیال ہے کہ سند صحیح اور بیان صریح الصحيح والبيان الصريح، فهذا سے عیسی امسیح کی حیات پر اجماع ہو چکا ہے تو | افتراء منك ومن أمثالك يہ تمہارا اور تمہارے جیسوں کا افترا ہے۔