اتمام الحجّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 9 of 82

اتمام الحجّة — Page 9

اتمام الحجة ۹ اردو تر جمه فأى حجة أو ضحُ من هذا إن اگر وه في الواقعہ مومن ہیں تو اس سے بڑھ کر اور كانوا مؤمنين؟ ولو جاز صرف کون سی دلیل واضح ہو سکتی ہے اور اگر الفاظ میں ألفاظ تحكما من المعانى المرادة اُن کے مقصودہ، متواترہ معانی سے از راہ محکم المتواترة، لارتفع الأمان عن تصرف کرنا جائز ہو تو پھر لغت اور شرع سے کلیہ اللغة والشرع بالكلية، وفسدت امان اُٹھ جائے گی اور سب عقائد بگڑ جائیں گے العقائد كلها، ونزلت آفات علی اور ملت اور دین پر آفات نازل ہو جائیں گی۔اور الملة والدين۔وكل ما وقع في جب بھی کلام عرب میں کوئی لفظ آئے تو ہم پر لازم كلام العرب من ألفاظ وجب علينا ہے کہ اپنی طرف سے اس کے معانی نہ گھڑیں اور أن لا ننحت معانيها من عند أنفسنا، قليل ( الاستعمال) معانی کو کثیر (الاستعمال ) ولا نقدّم الأقل على الأكثر إلا معانی پر مقدم نہ کریں سوائے اس کے کہ کوئی ایسا عند قرينة يوجب تقديمه عند قرینہ موجود ہو جو اہلِ معرفت کے نزدیک اس معنی أهل المعرفة، وكذلك كانت كو مقدم كرنا واجب کر دے اور یہی طریق کار سنن المجتهدين۔ہمیشہ مجتہدین کا رہا ہے۔ولما تفرقت الأمة على ثلث اور جب امت مسالک کے لحاظ سے تہتر وسبعين فرقة من الملة، وكل فرقوں میں بٹ گئی اور ہر ایک نے یہ سمجھا کہ وہ زعم أنه من أهل السنّة، فأتى اہلِ سنّت میں سے ہے تو ان اختلافات سے مخرج من هذه الاختلافات نکلنے کی کون سی راہ ہے اور ان آفات سے وأى طريق الخلاص من چھٹکارا حاصل کرنے کا اور کون سا طریق ہے۔الآفات من غير أن نعتصم سوائے اس کے کہ ہم اللہ کی محکم رتی کو بحبل الله المتين؟ فعليكم معاشر مضبوطی سے تھام لیں۔پس اے مومنوں کے المؤمنين باتباع الفرقان گرو ہو! تم پر فرقان (حمید) کی اتباع لازم ہے