اتمام الحجّة — Page 7
اتمام الحجة اردو تر جمه فكيف تصرون على معنى ما پھر تم کس طرح اُن معنوں پر اصرار کرتے ہو جو ثبت من كتاب الله وبيان خير كتاب اللہ اور خیر المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کے المرسلین صلی اللہ علیہ بیان سے ثابت نہیں ؟ تو وہ اس کے جواب میں وسلم؟ قالوا إنا ألفينا آباء نا کہتے ہیں کہ ہم نے تو اپنے آباء واجداد کو اپنے على عقيدتنا ولسنا بتاركيها اس عقیدے پر پایا۔اور ہم اس کو ابدالآباد تک إلى أبد الآبدين۔نہیں چھوڑ سکتے۔ثم إذا قيل لهم إن خاتم پھر جب اُن سے کہا جائے کہ سب سے النبيين و أصدق المفسرین زیادہ بچے مفسر خاتم النبیین نے اس آیت کی فسّر هكذا لفظ التوفّى فى تفسیر میں لفظ تو فی یعنی تَوَفَّيْتَنِی کی یہی تفسير هذه الآية؛ أعنى تفسیر کی ہے جیسا کہ اہلِ دانش پر مخفی نہیں اور تَوَفَّيْتَني، كما لا يخفى على حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کا أهل الدراية، وتبعه ابن عباس تتبع کیا ہے تا کہ وہ اِس طرح کے وسوسوں کی ليقطع عرق الوسواس، وقال جڑ کاٹ دیں۔اور اُنہوں نے مُتَوَفِّيكَ وفيك مميتك، فلِمَ کے معنے مُمِيتُكَ کے کئے ہیں۔تو پھر تم تتركون المعنى الذى ثبت مِن کیوں ان معنوں کو چھوڑتے ہو جو اول درجے نبي كان أوّل المعصومين کے معصوم نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) سے اور ومن ابن عمه الذي كان من آپ کے چا زاد سے جو اعلیٰ پایہ کے صاحب الراشدين المهديين ؟ قالوا رشد و ہدایت تھے ، ثابت ہیں؟ تو کہتے ہیں کہ كيف نقبل ولم يعتقد بهذا ہم کیسے تسلیم کریں جبکہ ہمارے گزشتہ آباء و | آباؤنا الأوّلون؟ و ما قالوا اجداد اس پر اعتقاد نہیں رکھتے تھے۔اُنہوں إلا ظلمًا وزورا ومن الفِرية نے جو کچھ کہا ہے وہ محض ظلم، جھوٹ اور افتراء ہے