اسلامی لٹریچر میں خوفناک تحریف

by Other Authors

Page 34 of 81

اسلامی لٹریچر میں خوفناک تحریف — Page 34

34 اس پیشگوئی سے پہلے دو شعر اور بھی ہیں۔الزام کفر باشد بر نیک خومسلمان از زاہدان به خامه اقدام کا فرانہ ( یعنی نیک خومسلمان پر زاہدوں کے قلم سے کفر کا الزام لگانے کا کافرانہ کام واقدام کیا جائے گا۔) مثل یہوداں فرقه در قلب کبر ونخوت لما منع نمود: نیا، انداز عالمانه (یعنی یہودیوں کی طرح ایک فرقہ ہوگا جس کے دلوں میں کبر نخوت بھری ہوگی یہ فرقہ شہرت یافتہ اور دنیاوی جاہ کا لالچی ہو گا۔بظاہر اس کا انداز عالمانہ ہوگا۔) حضرت نعمت اللہ ولی کا نام استعمال کرنے والے لوگ ابھی جشن مسرت منا رہے تھے کہ یکایک پاکستان کی بساط سیاست الٹ گئی اور ملک پر مارشل لاء نافذ ہو گیا اس فوری انقلاب پر طالع آزماؤں نے پینترا بدلا اور اپنی طبع آزمائی کے لیے اس مقدس بزرگ ہی کو چنا اور مندرجہ ذیل شعر ایجاد کر لیا۔قاتل کفار خواهد شد شیر علی حامی دین محمد پاسبان پیدا شود ترجمہ : ( بیہ) شیر علی شاہ کافروں کو قتل کرنے والا ہوگا سر کار دو عالم محمد اللہ کے دین کی حمایت کرنے والا ہوگا۔اور ملک کا پاسبان ظاہر ہو گا اس شعر کی تشریح یہ کی گئی کہ شیر علی نامی حکمران مغربی پاکستان کے عہد حکومت میں ہندو پاکستان کے درمیان جنگ ہوگی اور شیر علی فاتح ہوگا اور مغربی پاکستان میں اسلامی نظام نافذ کرے گا دوسر از او یہ یہ ہے کہ وہ شخص بہ اعتبار صفت شیر علی ہو سکتا ہے اور یہ اعتبار اسم خواہ وہ ضیاء الحق صاحب ہی ہو“ یہ شعر اور اس کی تشریح حافظ محمد سرور چشتی نظامی فیصل آباد نے اپنی کتاب