اسلامی لٹریچر میں خوفناک تحریف — Page 17
17 رکھتی ہے۔جماعت احمدیہ کی طرف سے جب کتابوں اور مناظروں کے ذریعہ عام مسلمان پبلک کے سامنے یہ تحریرات پیش کی گئیں اور ثابت کر دیا گیا کہ احمدیت کسی نئے مسلک یا مکتب فکر کا نام نہیں اور حضرت بانی جماعت احمد یہ اسی مقدس قافلہ کے ممتاز فرد ہیں جس میں تیرہ سو سالہ بزرگان امت شامل ہیں۔تو مخالف علما ء حیران رہ۔گئے اور ان کے لیے اس کے سوا اور کوئی چارہ کار نہ رہا کہ وہ تذکرۃ الاولیاء کا ایک ایسا ترجمہ عوام کو دیں جو احمدیوں کے پیش کردہ حوالوں سے معزا اور خالی ہو۔جس پر علامہ عبد الرحمان صاحب شوق امرتسری نے خالص اسی نقطۂ نگاہ سے قلم اٹھایا اور ایک اور ترجمہ کیا جس کا ایک ایڈیشن ملک سراج الدین اینڈ سنز تاجران کتب کشمیری بازار لاہور نے 1956ء میں سپر د اشاعت کیا۔علامہ عبدالرحمان صاحب شوق نے اسی ایڈیشن میں احمدیت کی مخالفت کے جوش میں 1925 ء کے مستند اور بامحاورہ اردو ترجمہ کے مندرجہ ذیل مقامات پر خط تنسیخ کھینچ کر ان کو اپنے ترجمہ سے یکسر خارج کر دیا۔حالانکہ تذکرۃ الاولیاء فارسی مطبوعہ 1306ھ 1889 ء مطبع محمدی لاہور میں یہ سب حوالے موجود ہیں۔حذف شدہ فرمودات ذیل میں ملاحظہ فرمائیے اور پھر سنجیدگی اور ٹھنڈے دل سے سوچنے کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی سے لیکر آج تک کے تمام معترض علماء ظواہر اگر ان پاک نہاد اور خدا نما بزرگوں کے زمانہ میں ہوتے جن کے ارشادات کو احمدیت کی مخالفت کے باعث حذف کیا جارہا ہے۔تو کیا وہ اسلام کی ان مایہ ناز تذکرۃ الاولیاء فارسی (1306ھ)