اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 84 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 84

تصور کی کیا حقیقت ہے؟ یہ سب اوامر ونواہی کی پابندیاں ہی تو ہیں جو طبعی جذبات اور خواہشات کے بلا روک ٹوک اظہار کے رستہ میں حائل ہو جاتی ہیں۔اس لئے سوال پیدا ہوتا ہے کہ صرف جنسی خواہشات ہی کے بے محل اور بے موقع ، خلاف تہذیب و روایت، ناشائستہ اور ناجائز اظہار کی اجازت کیوں دی جائے؟ آج جو منظر ہمارے سامنے ہے اور جس صورت حال سے ہم دوچار ہیں اس کا بغور جائزہ لینا اور صحیح تجزیہ کرنا بہت ضروری ہو گیا ہے۔وہ سوچ جسے بزعم خود جنسی آزادی کا نام دیا جاتا ہے وہ جنسی بے راہ روی تک ہی محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے شعلے زندگی کے دوسرے شعبوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا کرتے ہیں۔چنانچہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ چوری چکاری اور لوٹ کھسوٹ کا رجحان کس قدر بڑھ رہا ہے اور دوسروں کو اذیت اور دکھ پہنچا کر لوگ کتنی خوشی محسوس کرنے لگے ہیں۔لوگوں کے ذوق ہی بگڑ چکے ہیں۔ہر جائز اور ناجائز حربہ سے لذت کے حصول کی ایک اندھی دوڑ جاری ہے۔ان گھٹیا اور سفلی رجحانات کے ہاتھوں اعلیٰ تہذیبی قدروں کے خد و خال مسخ ہو رہے ہیں اور ارفع روایات پامال ہو رہی ہیں۔اور زندگی پھر اس وحشیانہ حالت کی طرف لوٹ رہی ہے جہاں سے سفر کا آغاز ہوا تھا۔شادی بیاہ کے موقعوں پر طرح طرح کے رسم و رواج اور افراد پر عائد کردہ سماجی پابندیاں ہی نہیں عشق و محبت کے معاملات، رومانی سلسلے اور معاشقے سبھی اس بنیادی فطری جذبہ کے مختلف مظاہر ہیں۔شعر و ادب، آرٹ، موسیقی، فیشن، فنون سے متعلق نمائشیں، خوشبو سے پیار، شائستگی، وضع داری اور دیگر تہذیبی رویے اگر تمام تر نہیں تو کسی حد تک اسی بنیادی جذبہ کا سماجی اظہار ہی تو ہیں۔معاشرہ نے ہزاروں سال کے ارتقائی عمل سے گزر کر یہ تہذیبی اقدار ورثہ میں پائی ہیں۔خدشہ یہ ہے کہ مستقبل کی نسلیں ان کے خلاف علم بغاوت لیکر نہ اٹھ کھڑی 84