اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 83 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 83

بے محابا جنسی میل جول اور اختلاط بھی اسی مرض کی علامت ہے اور یہ سلسلہ ان تعلقات کی آزادی تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے ساتھ کئی اور عوامل بھی شامل ہو جاتے ہیں جو انسانی زندگی کے اس نہایت اہم حصہ کے ماحول کو مکدر کر دیتے ہیں۔یہاں تک کہ جنسی تعلقات کے جائز یا نا جائز ہونے کی بحث کو ماضی کا قصہ سمجھ کر حقارت سے نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔بے شک بعض کٹر مذہبی حلقوں میں یہ موضوع پھر بھی زیر بحث رہتا ہے لیکن ٹی وی اور اخبارات وغیرہ میں ایسے مباحث کو دیکھیں تو صاف نظر آتا ہے کہ پرانے طرز کے کٹر مذہبی لوگوں کی تعداد گھٹ رہی ہے اور ان کی اہمیت بھی کم ہوتی جا رہی ہے۔مغرب میں تو یہ خیال فیشن کی طرح زور پکڑ رہا ہے کہ جنس ایک فطری جذبہ ہے جس کی بلا جھجک اور بلا روک ٹوک تسکین ہونی چاہئے۔اس موضوع پر بات کرتے وقت طبقہ نسواں کی مخصوص شرم و حیا قصہ پارینہ بنتی جا رہی ہے۔عریانیت، برہنگی، بے حجابی ، جسم کو چھپانے کی بجائے اس کی نمائش، بے باک گفتگو اور گناہ کے فخریہ اعلان کو سچائی کا بر ملا اظہار تصور کیا جاتا ہے۔اگر فطری تقاضوں کے نام پر جنسی خواہشات کی بلا روک ٹوک تسکین ضروری ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر اس دلیل کے ماتحت دیگر طبعی تقاضے کیوں پورے نہیں کئے جاتے ؟ کیا ہر پسندیدہ چیز کے حصول کی طبعی خواہش حیوانوں اور انسانوں میں یکساں طور پر نہیں پائی جاتی؟ کیا مشتعل ہو کر جذبات کا وحشیانہ اظہار ایک طبعی حیوانی تقاضا نہیں ہے؟ ایک کمزور کتا بھی ویسے ہی اپنی خواہشات کے ہاتھوں مجبور ہوتا ہے جیسے ایک طاقتور کتا۔فرق صرف اتنا ہے کہ طاقتور کتا کاٹ کھاتا ہے اور کمزور صرف بھونکنے پر ہی اکتفا کرتا ہے۔پھر کیا انسان کیلئے بھی جائز ہوگا کہ وہ بھی اپنے فطری تقاضوں کا اسی طرح بلا روک ٹوک اظہار کرے؟ آخر معاشرہ میں بعض باتیں عام طور پر کیوں ممنوع سمجھی جاتی ہیں ؟ تہذیب اور اخلاق کے ضوابط کیا ہیں؟ شائستگی کے 888 83