اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 76 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 76

فائدہ نظر آئے اور معاشرتی نظام سے فرار اختیار کر کے وہ کچھ مزے لوٹ سکے اور عیاری اور چالاکی سے اپنے جرائم پر پردہ ڈال سکے تو کونسی اخلاقی پابندی ہے جو اسکی راہ میں حائل ہوسکتی ہے؟ ایسے معاشرہ جو خدا تعالیٰ کے تصور سے عاری ہیں اور مادہ پرستی جنکا شعار ہے ان میں جرائم کا رجحان نفسیاتی طور پر بڑھنے لگتا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسکی جڑیں مضبوط سے مضبوط تر ہوتی چلی جاتی ہیں۔بعینہ یہی وہ نفسیاتی کیفیت ہے جسے قرآن کریم نے ایک مادہ پرست معاشرہ کا لب لباب قرار دیا ہے۔ہستی باری تعالیٰ اور بعث بعد الموت کے منکرین کہتے ہیں کہ : إِنْ هِيَ إِلا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوتُ وَنَحْيَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِين O (سورۃ المومنون آیت ۳۸) ترجمہ۔ہماری تو صرف یہی دنیا کی زندگی ہے۔ہم مرتے بھی ہیں اور زندہ بھی رہتے ہیں اور ہم ہر گز اٹھائے نہیں جائیں گے۔صرف یہی نہیں بلکہ کفار پہلے زمانوں میں مبعوث ہونے والے خدا کے فرستادوں سے تمسخر کے رنگ میں پوچھتے ہیں۔وَقَالُوا أَ إِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتاً أَإِنَّا لَمَبْعُوثُونَ خَلْقًا جَدِيدًا (سورۃ بنی اسرائیل آیت ۵۰) ترجمہ۔اور وہ کہتے ہیں کہ جب ہم محض ہڈیاں رہ جائیں گے اور ریزہ ریزہ ہو جائیں گے تو کیا ہم ضرور ایک نئی تخلیق کی صورت میں اٹھائے جائیں گے۔قَالُوا أَ إِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَعِظَامًا ءَ إِنَّا لَمَبْعُوثُونَ (سورۃ المومنون آیت ۸۳) ترجمہ۔وہ کہتے تھے کہ کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہو 76