اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 75
مزید برآں معاشرہ کے خلاف کئے جانے والے جرائم صرف اس صورت میں جرائم قرار پاتے ہیں جب ارتکاب جرم کا یقینی ثبوت موجود ہو۔پس انصاف کے تقاضے پورے نہ ہونے کا احتمال بہر حال موجود رہتا ہے۔ایسے سماجی نظام میں سطحی اور محدود انصاف ہی ممکن ہے جو معاشرتی جرائم کی حوصلہ شکنی کرنے کی بجائے ان کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔اور یوں معاشرہ میں گروہی اور ذاتی مفادات کے حصول کی ایک دوڑ شروع ہو جاتی ہے۔ایک ملحد یا نیم ملحد معاشرہ میں جہاں موت کے بعد جزا سزا کے تصور کو کلیتہ رد کر دیا گیا ہو یا یہ تصور اتنا مہم ہو کہ عملاً اس کا ہونا نہ ہونا برا بر ہو کر رہ جائے وہاں جرم کی ٹھوس اخلاقی اصولوں پر مبنی تعریف تلاش کرنا بے حد مشکل کام ہے۔پس ایسے معاشرہ کے لوگ قانون شکنی کے بعد صحیح طور پر یہ سمجھ ہی نہیں سکتے کہ انہوں نے کسی جرم کا ارتکاب کیا بھی ہے یا نہیں۔آخر قانون ہے کیا ؟ کیا یہ کسی مطلق العنان انسان کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ ہیں؟ کیا کسی جابر حکومت کے احکام کو قانون کہا جائے؟ کیا کثرت رائے سے کئے جانے والے فیصلے قانون کہلائے جانے کے مستحق ہونگے ؟ ایک عام انسان ان میں سے کس قانون کو صیح اور اخلاقیات کے ٹھوس فلسفہ پر مبنی سمجھے گا؟ بلکہ سوال تو یہ ہے کہ آخر کون سا اخلاقی فلسفہ؟ اگر انسان کسی بالا ہستی کا مرہون منت نہ ہو حیات بعد الموت پر ایمان ہی نہ رکھتا ہو اور اخروی زندگی میں اسے اپنے اعمال کی جوابدہی کا کوئی خوف نہ ہو تو ایسا شخص مذکورہ بالا مسائل کا جو بھی حل تجویز کرے گا وہ ایک ذمہ دار معاشرہ کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہوسکتا۔اسے تو صرف یہ چند روزہ زندگی گزارنی ہے۔معاشرہ اور معاشرتی نظام کی تو اسے محض اپنے فائدہ کے لئے ضرورت ہے۔اگر وہ معاشرہ میں کسی اتھارٹی کی اطاعت کرتا ہے تو محض ضرورۃ ایسا کرتا ہے ورنہ اگر معاشرتی زندگی کو ترک کرنے میں اسے 75