اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 54
لیکن ذرا ٹھہریئے پہلے تو یہ جائزہ لینا ہو گا کہ مختلف مذاہب نے اپنے متبعین اور دیگر فرقوں کے درمیان امن قائم کرنے میں کیا کردار ادا کیا ہے۔کیا مختلف مذاہب (جب تک ہیں ) کبھی باہم امن کے ساتھ رہنا سیکھ سکتے ہیں؟ اگر مادیت کے بڑھتے ہوئے اثرات کو دیکھا جائے اور اس طرف نظر ڈالی جائے کہ دنیا کس طرح روحانی لذات کی بجائے جسمانی اور جنسی لذات کو اہمیت دے رہی ہے تو یہ یقین ہونے لگتا ہے کہ مذہب کا کردار اس صورت حال میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا لہذا اسے یکسر نظر انداز کر دینا چاہئے۔لیکن مجھے افسوس ہے کہ میں اس نتیجہ سے متفق نہیں ہوسکتا۔میرے نزدیک مذہب امن عالم کے قیام میں ایک کردار ادا کرتا رہے گا اور بدقسمتی سے وہ انتہائی منفی نوعیت کا کردار ہوگا سوائے اس کے کہ جملہ مذاہب اپنے داخلی اور خارجی رویوں میں کوئی خوش آئند تبدیلی پیدا کر لیں۔مذہب کو تو قیام امن میں بڑا اہم کردار ادا کرنا چاہئے تھا۔اس کا کام تو یہ تھا کہ مختلف مذاہب اور فرقوں کے پیروؤں کے درمیان غلط فہمیوں کے ازالے، شائستگی کی ترویج اور جیو اور جینے دو کے اصول کے نفاذ کے سلسلہ میں اپنا فرض ادا کرتا۔مگر بدقسمتی یہ ہے کہ عصر حاضر میں فروغ امن کے لئے مذاہب نے اگر کہیں کوئی کردار ادا کیا بھی ہے تو وہ بہت ہی خفیف اور معمولی نوعیت کا ہے۔اس کے برعکس فساد اور خونریزی کو جنم دینے کے لحاظ سے مذہب آج بھی ایک بڑی فعال طاقت ہے۔دکھ اور مصائب پیدا کرنے میں مذہب کی طاقت کو کبھی کم نہیں سمجھنا چاہئے۔پس اگر ہم دنیا میں امن کے خواہاں ہیں تو اس معاملے میں جو نقائص موجود ہیں انہیں دور کرنا ہوگا۔عالمی امن کا کوئی خواب اس اہم مسئلے کو حل کئے بغیر شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔اندرونی طور پر بھی مذہب کی طاقت کو منفی رنگ میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ایک ہی مذہب کے متبعین کے مذہبی جذبات کو اسی مذہب 54