اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 53
رکھنے والا ہے اور اللہ بہت بخشنے والا ( اور ) بار بار رحم کرنے والا ہے۔للہ تمہیں ان سے منع نہیں کرتا جنہوں نے تم سے دین کے معاملہ میں قتال نہیں کیا اور نہ تمہیں بے وطن کیا کہ ان سے نیکی کرو اور ان سے انصاف کے ساتھ پیش آؤ۔یقیناً اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔مسلمانوں کو یہ تعلیم بھی دی گئی ہے کہ وہ توحید کے پیغام کی اشاعت کے لئے اہل کتاب کو بھی تعاون کے لئے بلائیں۔کیونکہ توحید کا عقیدہ تو سب میں مشترک ہے۔قرآن کریم کی درج ذیل آیت کا مفہوم بھی یہی ہے کہ اس قدر مشترک پر زور دیا جائے اور مقصد یہ ہے کہ ان امور پر اکٹھے ہو کر ایسے پروگرام بنائے جائیں جن سے بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچے نہ کہ اختلافی مسائل کو ہوا دے کر فساد پیدا کیا جائے۔قُلْ يَأَهْلَ الْكِتَبِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشهدوا بأنا مسلمون (سورۃ آل عمران آیت ۶۵) ترجمہ۔تو کہہ دے، اے اہل کتاب! اس کلمہ کی طرف آجاؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں گے۔اور نہ ہی کسی چیز کو اس کا شریک ٹھہرائیں گے۔اور ہم میں سے کوئی کسی دوسرے کو اللہ کے سوا رب نہیں بنائے گا۔پس اگر وہ پھر جائیں تو کہہ دو کہ گواہ رہنا کہ یقینا ہم مسلمان ہیں۔حاصل بحث کیا دنیا بھر کے مذاہب امن عالم کے قیام میں کوئی بامعنی کردار ادا کر سکتے ہیں؟ 53