اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 307
حضرت ابو موسیٰ اشعری روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اگر ایک شخص کے پاس کچھ نہیں ہے تو اسے چاہئے کہ اپنے ہاتھوں سے کام کرے اور اپنی کمائی میں سے کچھ خیرات بھی دے۔اگر وہ کام نہیں کر سکتا تو وہ کسی ضرورت مند بے بس کی مدد کرے۔اگر وہ یہ بھی نہیں کر سکتا تو اسے چاہئے کہ دوسروں کو نیکی کی ترغیب دے۔اور اگر وہ اس کی طاقت بھی نہیں رکھتا تو اسے چاہئے کہ وہ بدی کے ارتکاب سے بچتا رہے۔یہ بھی صدقہ ہے۔(صحیح البخارى كتاب الزكاة - باب : على كل مسلم صدقة فمن لم يجد فليعمل بالمعروف ) ایک اور حدیث میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ بیوی کے منہ میں لقمہ ڈالنا اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنے کا باعث ہے۔لوگوں کے دکھ درد سے ہمیشہ باخبر رہنا اسلام دوسروں کے دکھ درد کا شعور اور احساس پیدا کرتا ہے۔چونکہ یہ پہلو قبل ازیں سماجی، اقتصادی اور سیاسی امن کے ضمن میں زیر بحث آچکا ہے اس لئے یہاں اس پر مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔محبت و شفقت کا وسیع دائرہ اسلام انسانی محبت اور محبت کی اس صلاحیت کو صرف بنی نوع انسان تک محدود نہیں رکھتا بلکہ اسے ساری مخلوق خدا تک پھیلا دیتا ہے۔اس کا دعویٰ ہے کہ یہ وہ آخری مذہب ہے جو کسی ایک قوم کے لئے نہیں بلکہ تمام انسانیت کے لئے نازل ہوا ہے۔عام طور پر یہی توقع کی جاتی ہے کہ آنحضرت ﷺ کی ذات بابرکات کو تمام 307