اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 306 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 306

ترجمہ:۔اس دن وہ اپنی خبریں بیان کرے گی کیونکہ تیرے رب نے اسے وحی کی ہوگی۔اس دن لوگ پراگندہ حال نکل کھڑے ہوں گے تا کہ انہیں ان کے اعمال دکھا دیئے جائیں۔پس جو کوئی ذرہ بھر بھی نیکی کرے گا وہ اسے دیکھ لے گا اور جو کوئی ذرہ بھر بھی بدی کرے گا وہ اسے دیکھ لے گا۔یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ یہ تعلیم اصلاح معاشرہ کی طرف ایک اہم قدم ہے اور نمود و نمائش اور فخر و مباحات کا واحد اور مؤثر علاج بھی یہی ہے۔صدقہ و خیرات کے وسیع تر معنوں میں آنحضرت ﷺ نے مندرجہ ذیل اعمال کو ایسی نیکیوں میں شامل فرمایا ہے جن کا اجر خود اللہ تعالیٰ عطا فرماتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ انسانی اعضاء میں سے ہر عضو کا ہر روز صدقہ دینا واجب ہے۔دو افراد کے مابین انصاف کرنا صدقہ ہے۔کسی شخص کو سوار ہونے میں یا اس کا سامان چڑھانے میں مدد دینا بھی صدقہ ہے۔راستہ میں سے کسی تکلیف دہ چیز کا ہٹا دینا بھی صدقہ ہے۔(بخاری ومسلم ) عدی بن حاتم روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اگر کوئی مسلمان درخت لگاتا ہے اور پھر اس میں سے جو کچھ کھایا جاتا ہے وہ درخت لگانے والے کی طرف سے صدقہ ہے۔اور اگر اس میں سے کچھ چوری کر لیا جاتا ہے یا اس ย میں سے لے لیا جاتا ہے تو وہ بھی صدقہ ہے۔(صحيح البخارى كتاب المزارعة باب فضل الزرع والغرس إذا أكل منه) ابن ابی حاتم " روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا آگ سے بچو خواہ آدھی کھجور صدقہ میں دے کر۔اور اگر اس کی طاقت نہیں رکھتے تو اچھی بات کہہ (صحيح البخارى كتاب الادب باب طيب الكلام 306