اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 288
ہے کہ دیوار برلن کے گرنے سے پہلے تو ایسی صورت حال کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔بہر حال یہ سوال اپنی جگہ پر موجود ہے کہ کیا اقوام متحدہ اپنے موجودہ عظیم عدالتی اور انتظامی اختیارات کے ساتھ عالمی امن کے خواب کو حقیقت میں بدل سکتی ہے؟ میرے نزدیک اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔اگر اس جواب میں آپ کو قنوطیت نظر آئے تو میں معذرت خواہ ہوں۔بات یہ ہے کہ دنیا میں امن اور جنگ کے فیصلے محض بڑی طاقتوں کے باہمی تعلقات پر ہی منحصر نہیں ہوا کرتے بلکہ یہ ایک بہت گہرا اور پیچیدہ مسئلہ ہے جس کی جڑیں قوموں کے سیاسی اور اخلاقی رجحانات میں پیوست ہیں۔مزید برآں دنیا میں پایا جانے والا اقتصادی تفاوت اور امیر اور غریب ممالک کے درمیان بڑھتا ہوا بُعد بھی مستقبل میں رونما ہونے والے واقعات کے سلسلہ میں لازماً ایک بے حد اہم اور مؤثر کردار ادا کرے گا جس کے بعض پہلوؤں کا ذکر پہلے کیا جا چکا ہے۔یہ بات بہر حال یقینی ہے کہ جب تک اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک کے مابین اقتصادی تعلقات میں کامل انصاف کے اصول کو نہیں اپنا یا جاتا اور جب تک اسے عملاً نافذ نہیں کیا جاتا امن کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔جب تک اقتصادی اور تجارتی ناانصافیاں ہوتی رہیں گی اور غریب ممالک کی دولت کو لوٹا جاتا رہے گا عالمی امن کی ضمانت کا تو تصور بھی نہیں کیا جا سکتا نیز جب تک رکن ممالک کے ساتھ اقوام متحدہ کے تعلق اور کردار کا واضح طور پر تعین نہیں ہو جاتا امن عالم کا مستقبل تاریک رہے گا۔ضرورت ایسے اقدامات کرنے کی ہے جن کے ذریعہ حکومتوں کو اپنے عوام پر ظلم وستم ڈھانے سے باز رکھا جا سکے۔اقوام متحدہ کے پاس کچھ ایسے اختیارات اور طریق کار ہونا چاہیے جس سے وہ دنیا میں کسی بھی جگہ ہونے والی ناانصافی کے خلاف ایک منصفانہ اور مؤثر جہاد کر سکے۔جب تک ایسا نہیں ہوتا امن عالم کا خواہ 288