اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 281
اصول پر عمل کیا جائے تو ہر ملک کی حکومت گویا ایک اسلامی حکومت بن جائے گی۔ان دلائل کی روشنی میں اور خاص طور پر لَا إِكْرَاهَ فِی الدِّین جیسے اہم حکم کی موجودگی میں میں سمجھتا ہوں کہ مذہب کو امور سلطنت اور قانون سازی میں کوئی بالا اختیار دینے کی ضرورت نہیں۔اسلام اور ریاست قرآن کریم کے گہرے مطالعہ کے بعد میں شرح صدر سے کہہ سکتا ہوں کہ قرآن کریم جب حکومت کے موضوع پر بات کرتا ہے تو مسلم اور غیر مسلم ممالک میں امتیاز نہیں کرتا اور امور سلطنت کی بجا آوری کے سلسلہ میں جو معیار قائم کرتا ہے اس کے اول مخاطب اگر چہ مسلمان ہیں لیکن دراصل مخاطب تمام بنی نوع انسان ہیں۔اس ضمن میں قرآن کریم نے جو تعلیم دی ہے وہ ہندوؤں، سکھوں، بدھوں، عیسائیوں ، یہودیوں، مسلمانوں اور دیگر مذاہب کے پیروکاروں غرضیکہ سب کے لئے یکساں طور پر قابل عمل ہے۔اس تعلیم کا خلاصہ جن آیات میں بیان ہوا ہے ان میں سے ایک آیت پہلے درج کی جا چکی ہے۔اس مضمون کی بعض دیگر آیات درج ذیل ہیں۔فَلا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي لیک أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيْمَان (سورۃ النساء آیت ۶۶) ترجمہ : نہیں۔تیرے رب کی قسم ! وہ کبھی ایمان نہیں لا سکتے جب تک وہ تجھے ان امور میں منصف نہ بنا لیں جن میں ان کے درمیان جھگڑا ہوا ہے۔پھر تو جو بھی فیصلہ کرے اس کے متعلق وہ اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ 281