اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 259
اس کی مذمت نہیں کی۔ایک اسرائیلی نبی کا ذکر کرتے ہوئے قرآن کریم فرماتا ہے کہ انہوں نے طالوت بادشاہ کے زیر نگیں بنی اسرائیل کو یاد دلاتے ہوئے کہا ہے: وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ اللهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوْتَ مَلِكَاءَ قَالُوا أَنَّى يَكُوْنُ و لَهُ الْمُلْكُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ أَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِّنَ الْمَالِ قَالَ إِنَّ اللهَ اصْطَفَهُ عَلَيْكُمْ وَ زَادَهُ بَسْطَةَ فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ ، وَاللَّهُ 280 يُؤْتِي مُلْكَهُ مَنْ يَشَاءُ وَالله وَاسِعٌ عَلِيم (سورة البقرة آیت: ۲۴۸) ترجمہ:۔اور ان کے نبی نے ان سے کہا کہ یقیناً اللہ نے تمہارے لئے طالوت کو بادشاہ مقرر کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کو ہم پر حکومت کا حق کیسے ہوا جب کہ ہم اس کی نسبت حکومت کے زیادہ حقدار ہیں۔اور وہ تو مالی وسعت ( بھی ) نہیں دیا گیا۔اس ( نبی ) نے کہا یقیناً اللہ نے اسے تم پر ترجیح دی ہے اور اسے زیادہ کر دیا ہے علمی اور جسمانی فراخی کے لحاظ سے۔اور اللہ جسے چاہے اپنا ملک عطا کرتا ہے۔اور اللہ وسعت عطا کرنے والا (اور ) دائمی علم رکھنے والا ہے۔ط قرآن کریم نے حکومت کے وسیع تر معنوں میں عوام کی بادشاہت کا ذکر فرمایا وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يَقَوْمِ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَ فِيْكُمْ أَنْبِيَاءَ قي | وَجَعَلَكُمْ مُلُوكَا وَّاتَكُمْ مَّالَمْ يُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعَلَمِينَ (سورة المائدة آيت ۲۱) ترجمہ:۔اور (یاد کرو) وہ وقت جب موسی نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم! اپنے اوپر اللہ کی نعمت کو یاد کرو جب اس نے تمہارے درمیان انبیاء بنائے اور تمہیں بادشاہ بنایا اور اُس نے تمہیں وہ کچھ دیا جو جہانوں میں سے کسی اور کو نہ دیا۔259