اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 258 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 258

دنیا کی ترقی یافتہ اقوام میں بھی جمہوری عمل اس اوج کمال تک نہیں پہنچا جس سے ایک منظم معاشرہ تشکیل پاتا ہے جو جمہوریت کی آخری منزل ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ایک طاقتور سرمایہ دارانہ نظام میں منظم قوموں اور حلقہ ہائے مفاد کی موجودگی میں صحیح معنوں میں غیر جانبدارانہ انتخاب ہو ہی نہیں سکتے۔اسی طرح بدعنوانی کا بڑھتا ہوا سیلاب بھی حقیقی جمہوریت کے وجود کے لئے ایک خطرہ سے کم نہیں۔اسی طرح مافیا (Mafia) یعنی خفیہ تنظیموں اور دھونس، دھاندلی سے کام لینے والے دیگر گروہوں کو دیکھتے ہوئے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے جمہوری ممالک میں بھی جمہوریت محفوظ ہاتھوں میں نہیں ہے۔سوال یہ ہے کہ پھر تیسری دنیا کے لئے جمہوریت ایک بہترین نظام کیونکر ہو سکتا ہے۔کیا افریقہ، جنوبی امریکہ اور ایشیا کے ممالک میں مثالی جمہوریت کا نفاذ ایک کھوکھلا اور بے بنیاد دعویٰ تو نہیں ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ اسلام دنیا کے کسی سیاسی نظام کو کلیتہ رد نہیں کرتا اور اس امر کو عوام کی صوابدید پر چھوڑتا ہے کہ وہ کون سا سیاسی نظام پسند کرتے ہیں اور اسے کس حد تک اپنے تاریخی ورثہ اور روایات سے ہم آہنگ کر سکتے ہیں۔دراصل اسلام طرز حکومت اور اس کے ظاہری خدو خال پر زور نہیں دیتا بلکہ وہ اس امر پر زور دیتا ہے کہ حکومت کو کس طرح اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہئیں۔مختلف طرز ہائے حکومت مثلاً بادشاہت، فیوڈل سٹم وغیرہ سب کی اسلام میں گنجائش موجود ہے بشرطیکہ وہ نظام حکومت عوام سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو اسلام کے دیئے ہوئے مثالی تصور کے مطابق ادا کرے۔بادشاہت قرآن کریم نے بادشاہت کا بار بار ذکر کیا ہے اور کہیں بھی بطور ایک نظام کے 258