اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 251 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 251

داری ہے کہ وہ ایسے اقدامات کریں جن کے ذریعہ ان ممالک کی معیشت کو بحال کیا جا سکے۔بدقسمتی سے موجودہ دور کے تجارتی تعلقات کی نوعیت اس کے بالکل برعکس ہے۔دولت کا بہاؤ امیر اور زیادہ ترقی یافتہ ممالک کی طرف ہے جبکہ غریب ممالک کی اقتصادیات قرضوں کے بوجھ تلے دبی چلی جا رہی ہیں۔میں ایک ماہر اقتصادیات تو نہیں ہوں لیکن کم از کم اتنا ضرور سمجھتا ہوں کہ تیسری دنیا کے ممالک کے لئے ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ دو طرفہ تجارتی تعلقات کو جاری رکھنا اپنی دولت کے ان ممالک کی طرف بہاؤ کو رو کے بغیر ناممکن ہے۔اور ظاہر ہے کہ دولت کے اس بہاؤ کو برآمدات سے حاصل ہونے والی آمد اور درآمدات پر اٹھنے والے خرچ کو برابر اور یکساں کر کے ہی روکا جا سکتا ہے۔ایک اور اہم بات بھی پیش نظر رہنی چاہئے کہ معاشی طور پر ترقی یافتہ اقوام میں اپنا معیار زندگی بہتر بنانے کی ایک دائمی خواہش موجود ہے۔غریب قوموں کی بھی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ بھی قرض لے کر اپنے معیار زندگی کو ترقی یافتہ دنیا کے معیار کے مطابق بنا لیں حالانکہ وہ ٹیکنالوجی جس کے ذریعہ ہر کام بٹن دبانے سے ہونے لگتا ہے ایک آسان اور آرام دہ زندگی کا عادی بنا دیتی ہے اور انسان میں جفاکشی کی صفت کو نقصان پہنچاتی ہے۔ترقی یافتہ ممالک کے بسنے والے سب لوگ اگر محض اپنے پیٹ بھرنا چاہتے ہوں اور اپنے چہروں کو ہی صحت مند دیکھنا چاہتے ہوں تو ان سے یہ توقع کیسے کی جاسکتی ہے کہ وہ غریب اقوام کو لاحق کمی خون کے جان لیوا مرض کا کچھ مداوا کر سکیں گے۔وہ ان نحیف و نزار قوموں کی خاطر کیا کر سکتے ہیں جبکہ خود انکی اپنی خون کی پیاس نہیں سمجھ رہی۔ہر وہ چیز جو خریدی جا سکتی ہے ان کی معیشت کی طرف ہی منتقل ہو رہی ہے اور ان کا معیار زندگی ہر حال میں بلند تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔معیار زندگی کو بلند سے بلند تر کرنے کی جو دیوانہ وار دوڑ ہر طرف لگی ہوئی 251