اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 214
جس میں حکومت کو شرح سود کو بڑھانے یا گھٹانے کے مکمل اختیارات حاصل ہوں۔اسلام کے اقتصادی نظام میں ایسے اقدامات کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے جنہیں حکومت استحصال کا ذریعہ بنا سکے۔سود کے دیگر نقصانات سود کے بعض دیگر پہلوؤں کا ذکر یہاں بے محل نہیں ہو گا۔بینک باہمی لین دین میں جس شرح سے سود ادا کرتے ہیں وہ بڑے پیمانہ پر جمع کروائے گئے سرمایہ پر ہی لاگو ہوتی ہے۔عام سیونگ اکاؤنٹس پر اس شرح سود سے سود ادا نہیں کیا جاتا۔باوجود اس کے کہ اصل زر اور سود سے حاصل ہونے والی رقوم پر سود ملتا ہے پھر بھی چھوٹے اکاؤنٹس پر ملنے والا سود پیسے کی حقیقی قوت خرید سے بہت کم ہوتا ہے۔اگر چہ سود کی قلیل المیعاد شرح کم و بیش ہوتی رہتی ہے مگر دیکھا جائے تو انجام کار چھوٹے ڈیپازٹ کے ذریعہ کمایا جانے والا سود افراط زر کی شرح سے کم ہوتا ہے۔دوسری طرف اگر اتنا ہی سرمایہ کا روبار میں لگایا جائے تو اس میں سرمایہ بڑھنے کی درحقیقت بڑی گنجائش ہوتی ہے۔سودی معاشرہ میں سرمایہ دار قرض دینے کے لئے ہمیشہ تیار رہتا ہے۔قطع نظر اس کے کہ قرض لینے والا رقم لوٹا بھی سکے گا یا نہیں۔جہاں تک قرض لینے والوں کا تعلق ہے ان میں سے معدودے چند ہی ہیں جو سنجیدگی سے غور کرتے ہیں کہ ان میں قرض کو لوٹانے کی طاقت ہے یا نہیں۔وہ نہیں جانتے کہ شائی لاک (Shylock) جیسے ظالم ساہوکاروں اور بڑے بڑے مالی اداروں اور بینکوں سے قرض لینا دراصل مستقبل کی اپنی ہی آمدنی میں سے قرض لینے کے مترادف ہے۔سودی قرض کے یوں 214