اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 213 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 213

اس صورت میں منطقی نتیجہ تو یہ نکلنا چاہئے تھا کہ مصنوعات کی قیمتوں میں کمی ہو جاتی۔ظاہر ہے کہ پیداوار میں اضافہ سے جو منافع حاصل ہوتا ہے اسی میں سے مصنوعات کی تیاری پر اٹھنے والے عمومی اخراجات مثلاً عمارت کے کرائے، بجلی کے بل وغیرہ بسہولت ادا ہو جانے چاہئیں اور اصل لاگت بے حد کم ہو جانی چاہئے۔صنعت کار زیادہ منافع کمانا چاہتا ہے تو بھی اس کے پاس قیمتوں میں کمی کرنے کی کافی گنجائش موجود تھی لیکن برطانوی معیشت اپنے طبعی استحکام اور ترقی کی بجائے الٹا زوال کا شکار ہے جس کی وجہ طویل عرصہ سے نافذ بلند شرح سود ہے۔اندیشہ ہے کہ مستقبل میں اس کے اور بھی زیادہ خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔اس کے ساتھ ساتھ جو غیر ملکی منڈیاں ایک ایک کر کے ان کے ہاتھ سے نکل جائیں گی ان کا از سر نو حصول بھی مشکل ہو جائے گا۔یورپ میں تبدیلیوں کی وجہ سے وہاں کی معاشی طاقت کا مرکز ثقل مغربی جرمنی (جسے اب جرمنی کہنا چاہئے ) منتقل ہو رہا ہے۔اس کے نتیجہ میں اس کی معیشت مضبوط تر ہو رہی ہے۔ظاہر ہے کہ برطانوی معیشت کے لئے یہ کوئی خوش آئند امر نہیں ہے۔اس کے علاوہ برطانوی معیشت پر بلند شرح سود کے کچھ ثانوی اثرات بھی پڑے ہیں جو بالکل منفی ہیں اور جن کی طرف پہلے اشارہ کیا جاچکا ہے۔سود کی شرح میں کمی کا اعلان اب ضروری ہو چکا ہے۔موجودہ حکومت اس اعلان کا وقت آگے پیچھے کرنے کی ناکام کوشش تو کر سکتی ہے لیکن آئندہ اگر کنزرویٹو حکومت ہی آئی تو اسے اپنی ہی پارٹی کی سابقہ حکومت کی طرف سے سنگین مسائل ورثہ میں ملیں گے۔اس بحث کا لب لباب اور دنیا بھر کے پالیسی سازوں کے لئے لمحہ فکر یہ یہ ہے کہ قومی معیشت کو کنٹرول کرنے کے لئے سود کو آلہ کار بنانا فری مارکیٹ اکانومی کے نظریہ کی جڑوں پر تبر رکھنے کے مترادف ہے۔سودی سرمایہ کے فلسفہ پر قائم نظام معیشت کو درحقیقت آزاد نہیں کہا جا سکتا 213