اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 208 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 208

عائد ہوتی ہے تو زکوۃ لینے والے ہر سال اس کے دروازہ پر دستک دیں گے۔ایسے افراد کے پاس دو ہی راستے ہیں یا تو وہ خود اپنے مال کو کسی منافع بخش کام میں لگا دیں یا پھر سب مل کر کوئی چھوٹا بڑا کاروبار شروع کریں۔اس طرح نفع و نقصان میں شراکت کی بنیاد پر مشترکہ کاروبار شروع ہو جائیں گے۔چھوٹی چھوٹی تجارتی کمپنیاں وجود میں آئیں گی یا بڑی کمپنیوں میں پبلک حصص رکھے جائیں گے۔ان کمپنیوں پر کسی مالی ادارہ کا کوئی ایسا قرض نہیں ہو گا جسے انہوں نے سود کے ساتھ واپس لوٹانا ہو۔ایسی کمپنیوں کا سرمایہ دارانہ نظام کے تحت قائم شدہ کمپنیوں موازنہ کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ اول الذکر کمپنیوں کو اقتصادی بحرانوں اور دیگر مشکل حالات میں ایک بالکل مختلف صورت حال کا سامنا ہو گا۔سرمایہ دارانہ اقتصادی نظام میں اگر تجارتی یا صنعتی پیداوار مانگ کم ہونے کی وجہ سے ماند پڑ جائے تو نوبت دیوالیہ پن تک پہنچ سکتی ہے۔جو سود انہیں اپنے قرضوں پر ادا کرنا پڑتا ہے وہ مسلسل بڑھتا ہی چلا جاتا ہے یہاں تک کہ ایسی کمپنیوں کا قائم رکھنا ہی ناممکن ہو جاتا ہے۔لیکن اگر دوسری طرف کوئی اقتصادی نظام اسلامی اصول کے مطابق چل رہا ہے تو کاروبار میں مندے کی وجہ سے صنعت و تجارت تباہ نہیں ہو گی بلکہ عارضی طور پر اس پر سرمائی نیند کی سی کیفیت طاری ہو جائے گی۔نظام قدرت میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ انتہائی مشکلات اور تنگی کے زمانہ میں بہترین چیز کو اسی طریق پر بچایا جاتا ہے۔جب توانائی کم ہو جائے تو کام کا بوجھ بھی کم پڑتا ہے تا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ زندہ رہنے کے لئے کم سے کم توانائی بھی نہ مل سکے۔چنانچہ اسلام کے مالی نظام میں سود کی ادائیگی کا مسلسل بڑھنے والا دباؤ نہیں ہوتا اس لئے اس میں کاروباری مندے کو برداشت کرنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے اور یہ بُرے وقت میں بھی بڑے سے بڑے چیلنجوں کا سامنا کرسکتا ہے۔208