اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 207 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 207

ترجمہ :۔صدقات تو محض محتاجوں اور مسکینوں اور ان (صدقات) کا انتظام کرنے والوں اور جن کی تالیف قلب کی جارہی ہو اور گردنوں کو آزاد کرانے اور چٹی میں مبتلا لوگوں اور اللہ کی راہ میں عمومی خرچ کرنے اور مسافروں کے لئے ہیں۔یہ اللہ کی طرف سے ایک فرض ہے۔اور اللہ دائمی علم والا (اور ) بہت حکمت والا ہے۔ย اس حکم کو نافذ کرنے کا انتظام بیت المال کے سپرد ہے۔خلافت راشدہ میں پہلے دو خلفاء یعنی حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر فاروق صدقات کو جلد از جلد مستحقین میں تقسیم کرنے میں بڑی شہرت رکھتے ہیں۔آپ دونوں ذاتی دلچسپی لے کر زکوۃ کی فوری تقسیم کو یقینی بناتے تھے۔یہ وہ مملکت تھی جو پہلی فلاحی ریاست کے نام سے موسوم ہوئی۔صدقات کی تقسیم کا یہ نظام عباسی دور میں صدیوں تک بڑی کامیابی سے چلتا رہا۔جیسا کہ پہلے واضح کیا جا چکا ہے اسلام کے اقتصادی نظام کو چلانے والی قوت سود نہیں بلکہ زکوۃ ہے۔جب ہم اس نظام کو عملی شکل میں دیکھتے ہیں تو اس میں اور دیگر اقتصادی نظاموں میں بہت سے اور فرق بھی نظر آنے لگتے ہیں اور ایک بالکل مختلف اقتصادی نقشہ ابھرتا ہے۔سرمایہ پر جس شرح سے ٹیکس ادا کیا جاتا ہے اس سے زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ سرمایہ میں اضافہ ہونا ضروری ہے ورنہ بے کار پڑا ہوا سرمایہ خواہ زیادہ ہو یا کم لمبے عرصہ تک نہیں رہ سکتا۔بعینہ اسی اصول پر زکوۃ ایک حقیقی اسلامی ریاست کی معیشت کو ترقی دیتی۔ہے ایک ایسے شخص کا تصور کریں جس کے پاس تھوڑا سرمایہ ہے۔وہ نہ تو اس قابل ہے کہ براہ راست تجارت میں حصہ لے سکے اور نہ بینک موجود ہیں جو اس کی رقم پر سود ادا کر سکیں۔اگر وہ صاحب نصاب ہے یعنی اس کا سرمایہ اتنا ہے کہ اس پر زکوۃ 207