اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 162 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 162

کہ وہ ان کی جمع کردہ دولت کو لوٹ لیں گے۔جبکہ سرمایہ دارانہ نظام میں زیادہ تر سب کے لئے یکساں مواقع مہیا کرنے کی بات کی جاتی ہے۔وہ دولت کی مساوی تقسیم کی بجائے فری اکانومی پر زور دیتے ہیں تا کہ سب کو اپنی کارکردگی دکھانے کے لئے یکساں مواقع مل سکیں۔اس طرح جو معاشرہ تشکیل پاتا ہے اس میں ہمیشہ لوگوں کو اپنے مطالبات پیش کرنے کی ضرورت رہتی ہے۔حکومت یا سرمایہ داروں سے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کرنے کے لئے پریشر گروپس بنائے جاتے ہیں، ٹریڈ یونینز کا قیام عمل میں آتا ہے جو ملازموں اور مزدوروں کے حقوق کے لئے سرگرم عمل رہتی ہیں لیکن اس کے باوجود ایسے معاشرہ میں ملازم اور مزدور پیشہ لوگ ہمیشہ ہی احساس محرومی کا شکار رہتے ہیں۔دوسری طرف اگر سائنٹفک سوشلزم کو مثالی شکل میں نافذ کیا جائے تو معاشرہ کے کسی طبقہ کو کسی قسم کا مطالبہ کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔یا تو معاشرہ اتنا آسودہ حال ہوگا کہ سب کی ضرورت کا خیال رکھتے ہوئے قومی دولت کی منصفانہ تقسیم ممکن ہوگی۔یا پھر معاشرہ اتنا غریب ہوگا کہ وہ کسی کی ضرورت کو پورا نہیں کر سکے گا اور سب لوگ ایک ہی طرح کی بدحالی کا شکار ہوں گے۔دونوں صورتوں میں ایک ایسا معاشرہ تشکیل پائے گا جس میں حقوق کا مطالبہ ایک بے معنی بات ہوگی جبکہ سرمایہ دارانہ نظام میں ہر طرف حقوق کے مطالبے نظر آتے ہیں۔اس نظام کے مطابق غرباء کو اپنی بے اطمینانی کے اظہار کا پورا حق ملنا چاہئے اور انہیں ایسے مواقع بھی میسر آنے چاہئیں جہاں ان کی بات سنی جائے۔پس اس صورت میں انجام کار پریشر گروپس بنیں گئے ہڑتالیں ہوں گی اور آجر اور اجیر کے جھگڑے ہوں گے اور کارخانوں پر تالے پڑ جائیں گے۔اسلام ایک ایسا انداز فکر پیدا کرنا چاہتا ہے جس کے ذریعہ اہل اقتدار اور امراء کو ہمیشہ یہ یاد رہے کہ ایک منصفانہ اقتصادی نظام کا قیام بالآخر ان کے اپنے مفاد 162