اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 161 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 161

اسلام نے ان مقامات پر بھی ہمیں تفصیلی ہدایات دی ہیں جہاں سماجی اور معاشی افق باہم ملتے ہوئے نظر آتے ہیں۔اگر اسلام کی ان تعلیمات کو نافذ کیا جائے تو ہمارے صبح و شام حسین اور دلکش ہو جائیں گے۔سرمایہ دارانہ نظام ، سوشلزم اور اسلام میں معاشی انصاف کا تصور معاشی انصاف کا نعرہ تو بڑا دلکش ہے اور فری مارکیٹ اکانومی رکھنے والا سرمایہ دارانہ نظام اور جدلی مادیت کے فلسفہ پر قائم سائنٹفک سوشلزم دونوں یہی نعرہ بلند کرتے ہیں۔ایک طرف سرمایہ دارانہ نظام یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ صرف اور صرف وہی معاشی انصاف فراہم کرتا ہے۔دوسری طرف سائنٹفک سوشلزم کا بھی یہی دعوئی ہے کہ اس کے سوا کوئی معاشی انصاف قائم نہیں کر سکتا۔میں معذرت کے ساتھ دونوں کے متعلق اپنی مایوسی کا اظہار کرتا ہوں کہ یہ دونوں ہی معاشی انصاف کے سنہری اصول کو اپنانے اور اس پر عمل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔تا ہم اس موضوع پر تفصیلی بحث ہم آگے چل کر کریں گے۔اسلام میں انصاف کا تصور بڑا وسیع اور ہمہ گیر ہے اور یہ تصور اسلامی تعلیم کے سب پہلوؤں پر محیط ہے۔لیکن صرف یہی نہیں بلکہ اسلام اس سمت میں ایک قدم اور آگے بڑھتا ہے۔سائنٹفک سوشلزم میں یہ کوشش کی جاتی ہے کہ معاشرہ کی اقتصادی اونچ نیچ کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے۔امیر وغریب میں کوئی فرق باقی نہ رہے اور سب لوگ قومی دولت سے یکساں فائدہ اٹھا ئیں۔معاشرہ میں نہ غرباء ہوں اور نہ ان کی ایسی ضروریات ہوں جو پوری نہ ہو سکیں۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ حقوق کے مطالبہ کا سوال ہی نہیں اٹھے گا اور امراء کو مفلوک الحال لوگوں سے یہ خطرہ نہیں ہوگا 161