اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 155 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 155

کرتیں جس سے خاوند کی عزت پر حرف آتا ہو تو پھر اپنی حیثیت کے مطابق ان کی خوراک، لباس اور رہائش وغیرہ کا انتظام کرنا تمہاری ذمہ داری ہے۔ہمیشہ اپنی بیویوں سے حسن سلوک کے ساتھ پیش آنا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی نگہداشت تمہارے سپرد کی ہے۔عورت کمزور ہے اور اپنے حقوق کی حفاظت نہیں کر سکتی۔شادی کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کے حقوق کی ادائیگی تمہارے سپرد کی ہے۔تم انہیں اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے قوانین کے مطابق اپنے گھر لائے تھے۔پس خدا نے جو امانت تمہارے سپرد کی ہے اس میں خیانت کے مرتکب نہ ہونا۔اے لوگو! ابھی تک کچھ جنگی قیدی تمہارے قبضہ میں ہیں۔پس میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ ان کو ویسا ہی کھانا کھلاؤ جو تم خود کھاتے ہو اور ویسا ہی لباس پہناؤ جو تم خود پہنتے ہو۔اگر ان سے کوئی ایسا قصور سرزد ہو جائے جسے تم معاف نہ کر سکو تو انہیں کسی اور کے سپرد کر دو۔وہ بھی اللہ تعالیٰ ہی کی مخلوق ہیں پس انہیں دکھ دینا یا تکلیف پہنچانا کسی طرح بھی جائز نہیں ہو سکتا ہے۔۔۔اے لوگو! جو کچھ میں تم سے کہتا ہوں اسے سنو اور یاد رکھو۔تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔تم سب برابر ہو۔سب انسان خواہ وہ کسی قوم اور کسی قبیلہ سے تعلق رکھتے ہوں اور کیسا ہی منصب کیوں نہ رکھتے ہوں بحیثیت انسان برابر ہیں ( یہ کہتے ہوئے آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ملائیں اور فرمایا ) جس طرح ان دونوں ہاتھوں کی انگلیاں برابر ہیں اسی طرح بنی نوع انسان آپس میں برابر ہیں۔کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ دوسرے پر کسی قسم کی برتری کا دعوی کرے۔تم سب آپس میں بھائی بھائی ہو۔اے لوگو! تمہارا خدا ایک ہے اور تم ایک آدم کی اولاد ہو۔کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے نہ کسی عجمی کو عربی پر فضیلت ہے۔کسی کالے کو گورے پر 155