اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 154 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 154

کی کئی آیات درج کی جا چکی ہیں اس لئے انہیں یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں۔میں آخر میں اس بات کو پورے وثوق سے دہرا کر اس بحث کو ختم کرتا ہوں کہ حقیقت یہی ہے کہ اسلام وحدت انسانی کا زبردست علم بردار ہے۔اور اس کے ساتھ ساتھ انسانی وحدت کے قیام اور امن عالم کو یقینی بنانے کیلئے پرامن اقدامات تجویز کرتا ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس سلسلہ میں جو اسوہ حسنہ تھا اسے جاننے کے لئے خطبہ حجۃ الوداع میں سے لئے گئے چند اقتباسات کافی ہیں۔آپ نے اپنے وصال سے قبل بنی نوع انسان کے اجتماع سے جو کہ آپ کی زندگی کا سب سے بڑا اجتماع تھا خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔” اے لوگو! میری بات کو غور سے سنو کیونکہ میں نہیں جانتا کہ آئندہ کبھی میں اس میدان میں تمہارے سامنے تقریر کر سکوں گا یا نہیں۔اللہ تعالیٰ نے قیامت تک تمہاری جانوں اور مالوں کو ایک دوسرے کے لئے حرام قرار دے دیا ہے۔ہر شخص کے لئے وراثت میں اس کا حصہ مقرر کر دیا گیا ہے۔کوئی ایسی وصیت قبول نہیں کی جائے گی جس میں ایک جائز وارث کے ساتھ نا انصافی کی گئی ہو۔بچہ اسی کا ہوگا جس کے گھر میں وہ پیدا ہوا ہے۔ایک بدکار اگر بچہ کی ابوت کا دعوی کرے گا تو وہ اسلامی قانون کے تحت سزا کا مستوجب ہوگا۔جو شخص اپنے باپ کے سوا خود کو کسی اور کی طرف منسوب کرتا ہے یا غلط بیانی سے کسی کو اپنا آقا قرار دیتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ ، اس کے فرشتوں اور تمام بنی نوع انسان کی لعنت ہوگی۔اے لوگو! تمہارے کچھ حقوق تمہاری بیویوں پر ہیں لیکن تمہاری بیویوں کے کچھ حقوق تم پر بھی ہیں۔ان پر تمہارا یہ حق ہے کہ وہ پاکیزگی اور عفت کے ساتھ زندگی بسر کریں اور ایسے کام نہ کریں جو خاوندوں کیلئے لوگوں میں بے عزتی کا موجب ہوں لیکن اگر وہ کوئی ایسی حرکت نہیں 154