اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 146
اختلاف تھا۔مسلمانوں اور عیسائیوں کی یہ کشمکش زیادہ تر ترک عرب اتحاد اور مسیحی یورپ کے مابین ایک جنگ دکھائی دیتی ہے۔جبکہ انڈونیشیا، ملائیشیا، چین اور ہندوستان کے مسلمان اس جھگڑے سے بالکل لاتعلق اور الگ تھلگ رہے ہیں۔اگر چہ بظاہر اس دور کی تاریخ ماضی کے دھندلکوں میں دفن ہو چکی ہے اور اس کی یادیں انسانی حافظہ سے محو ہو چکی ہیں لیکن میں اس دبی ہوئی آگ کو پھر سے سلگتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔انسانی مسائل ہمیشہ کے لئے کبھی ختم نہیں ہوتے۔یہ جھگڑے تاریخ کے اندھیروں میں کیسے ہی گم کیوں نہ ہو چکے ہوں پھر بھی سر اٹھا سکتے ہیں۔ماضی سے نکل کر زمانہ حال میں آجائیے۔جب تک دنیا دو بڑی طاقتوں اور ان کے اتحادیوں میں بٹی رہی مغرب کے مفاد کیلئے یہ ضروری تھا کہ اس قسم کے صدیوں پرانے مسائل کو از خود نہ چھیڑا جائے اور نہ ہی کسی کو انہیں چھیڑنے کی اجازت دی جائے لیکن جب سے مشرق اور مغرب کے مابین تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے یوں معلوم ہوتا ہے جیسے دنیا پھر سے قرون وسطی کے کسی جنگجو سردار کی چیرہ دستیوں کا شکار ہونے والی ہے۔سوویت یونین اور مشرقی یورپ میں رونما ہونے والی عظیم الشان تبدیلیوں نے ایک ایسی فضا کو جنم دیا ہے جس سے عیسائیوں اور مسلمانوں کی پرانی مذہبی اور سیاسی رقابتوں کے پھر سے ابھرنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔دونوں طرف کے مفاد پرست اس آگ کو اور بھی ہوا دینے کا باعث بن سکتے ہیں۔اور مجھے اندیشہ ہے بلکہ غالب گمان ہے کہ اسلام اور عیسائیت دونوں کے مذہبی راہنما اس صورت حال کو اور بھی زیادہ بگاڑ دیں گے اور یوں مسلمانوں اور عیسائیوں کے مابین امن اور ہم آہنگی کے امکانات تاریک سے تاریک تر ہو جائیں گے۔اگر ایسا ہوا تو اس کا فائدہ یقیناً اسرائیل کو ہوگا۔یہ ناممکن ہے کہ اسرائیل ایسی صورت حال میں کوئی دلچسپی نہ لے اور 146