اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 145 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 145

بظاہر دکھائی نہیں دیتے مگر در حقیقت موجود ہیں جن میں سے ایک قوم پرستی بھی ہے۔علاوہ ازیں مذہبی، قبائلی اور علاقائی تعصبات وغیرہ کی بھی چند ایک ایسی مثالیں ہیں جن میں پس پردہ نسلی عصبیت مختلف ناموں سے کارفرما ہوتی ہے۔سفید فام لوگوں پر یہ الزام عائد کرنا نا انصافی ہوگی کہ صرف وہی کالے اور زرد لوگوں سے تعصب رکھتے ہیں۔خود سیاہ فام اور زرد اقوام بھی نسل پرستی کا کچھ کم مظاہرہ نہیں کرتیں۔اور پھر ایسی نسلی عصبیت بھی موجود ہے جس کا تعلق ان لوگوں سے ہے جن کی جلد کا رنگ نہ تو سیاہ ہے اور نہ ہی بالکل زرد بلکہ دونوں کے بین بین ہے۔نسل پرستی کے فساد کی جڑ دراصل طبقاتی تعصب ہی ہے اور غالباً یہی اس کی موزوں ترین تعریف بھی ہے۔جب بھی ایک طبقہ کے لوگ اپنے مفادات کی خاطر دوسرے طبقہ کے خلاف تعصب برتنے لگتے ہیں تو نسلی عصبیت کا ناگ اپنا زہریلا اور بھیا نک سر اٹھاتا ہے۔پھر نفرتوں کی ایک ایسی آندھی چلتی ہے جو نیک و بد میں تمیز نہیں کیا کرتی۔اچھے برے، چھوٹے بڑے سب اس کی لپیٹ میں آجاتے ہیں اور معاشرہ نفرتوں کی آماجگاہ بن جاتا ہے۔چند صدیاں پہلے کرہ ارض کا مغربی حصہ بڑی حد تک عیسائیت اور اسلام کے درمیان تقسیم تھا اور یہ دونوں مذاہب ایک دوسرے کے مقابل صف آرا تھے۔مذہبی تعصب کے اس دور میں یہود نے مسلمانوں کے خلاف جو کردار ادا کیا وہ عام طور پر لوگوں کے علم میں نہیں ہے تاہم اس حقیقت سے سب آگاہ ہیں کہ یہود مسیحی یورپ ہی کا حصہ تھے اور یورپ بحیرہ روم کے گرد آباد مسلمان اقوام سے سخت متنفر تھا اور ان کے متعلق ہمیشہ ہی بد اعتمادی کا شکار رہا۔اہل یورپ مغرب کی جانب مسلمانوں کی پیش قدمی سے خوفزدہ تھے۔عیسائیوں اور مسلمانوں کے مابین اس شدید مخالفت کے دور میں نسلی تعصب کا ایک ایسا عنصر بھی موجود تھا جس کی بنیاد رنگ کا 145