اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 109
۔سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ رائے جلدی میں قائم کی گئی ہے اور اس میں سطحیت پائی جاتی ہے۔ضروری ہے کہ پردہ کی تعلیم کو اسلام کے پیش کردہ مجموعی اخلاقی نظام اور سماجی ماحول کا ایک لازمی جزو سمجھا جائے جس سے الگ کر کے اسے سمجھا ہی نہیں جاسکتا۔اسلام کے سماجی نظام میں عورتوں کا کردار محلات میں رکھی جانے والی لونڈیوں کا سانہیں ہے۔نہ ہی عورت کو گھر کی چاردیواری میں مقید کیا گیا ہے اور نہ اسے ترقی اور علم کی روشنی سے محروم رکھا گیا ہے۔اسلام کے سماجی نظام کی یہ بھیانک تصویر دراصل اسلام کے اندرونی اور بیرونی دشمنوں کی بنائی ہوئی ہے یا پھر اسے ان ملاؤں کی طرف منسوب کیا جا سکتا ہے جو اسلامی طرز حیات کو سمجھنے کی استعداد ہی نہیں رکھتے۔ایک بات تو طے ہے کہ اسلام یہ اجازت نہیں دے سکتا کہ عورت کو کھلونا سمجھ کر اس کا استحصال کیا جائے اور وہ مرد کی ہوس کا نشانہ بنتی رہے۔اسلام عورت کے متعلق ایسا تو ہین آمیز طرز عمل روا ر کھنے کی قطعاً اجازت نہیں دیتا۔کیا یہ انتہائی ظلم نہیں کہ چونکہ معاشرہ کا مزاج تقاضا کرتا ہے اس لئے یہ ضروری سمجھا جائے کہ عورت اپنے آپ کو بنا سنوار کر رکھے اور پرکشش نظر آنے کی کوشش کرتی رہے۔عورت کے ساتھ آج یہ ظلم ہو رہا ہے۔ہر وقت نسوانی حسن کی نمائش کی جاتی ہے۔کھانے پینے کی کوئی چیز روزمرہ کی اشیائے صرف مثلاً واشنگ پاؤڈر وغیرہ تک کو فروخت کرنے کے لئے ضروری ہو گیا ہے کہ اشتہار میں عورت کی چہرہ نمائی کی گئی ہو۔دوسری طرف زندگی کے مصنوعی ٹھاٹ باٹ کو یوں پیش کیا جاتا ہے جیسے اس کے بغیر عورت کے خوابوں کی تعبیر ممکن ہی نہ ہو۔ایسا معاشرہ کبھی زیادہ دیر تک متوازن اور صحت مند نہیں رہ سکتا۔اسلامی تعلیم کے مطابق خواہ کچھ بھی ہو عورت کو استحصال سے بہر حال آزادی ملنی چاہئے۔اسے اس بات سے نجات ملنی چاہئے کہ وہ مرد کے لئے محض حصول لذت کا ذریعہ بنی رہے۔اس کے پاس خود اپنے لئے کچھ 109