احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 64 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 64

وزیر خارجہ رہے اور اس دوران امریکہ کی طرف سے پاکستان کو ایک ڈالر کی بھی ملٹری ایڈ نہیں دی گئی اور اس کے اگلے چھ برس کے دوران 2069 ملین ڈالر کی خطیر ملٹری مدددی گئی۔اب اقتصادی مدد کا جائزہ لیتے ہیں۔جن چھ سالوں میں چوہدری ظفر اللہ خان صاحب وزیر خارجہ تھے ان کے دوران امریکہ کی طرف 826 ملین ڈالر کی اقتصادی مدد پاکستان کو دی گئی اور اس سے اگلے چھ برس کے دوران 5371 ملین ڈالر اقتصادی مدد دی گئی۔(Figures are adjusted for inflation and presented in 2009constant dollars) (https//:www۔theguardian۔com/global-development/poverty-matters /2 us-aid-to-pakistan۔retrieved on 14۔8۔2018) ان اعداد و شمار کی روشنی میں تو کوئی ذی ہوش اُن الزامات کو قبول نہیں کر سکتا جو کہ اس عدالتی فیصلہ میں لگائے گئے ہیں لیکن ہمیں تو کوئی یہ سمجھائے کہ آخر چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے وزارت خارجہ سے رخصت ہوتے ہی کون سی کرامت ظہور میں آئی کہ امریکی مدد کا سیلاب امڈ آیا۔سرکاری اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام پاکستان میں مخالفین عموماً یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ احمدیوں کو کلیدی عہدوں پر نہیں لگانا چاہیے۔اس مطالبہ کا کوئی آئینی اور قانونی جواز موجود نہیں ہے۔اس جواز کو پیدا کرنے کے لئے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ احمدی سامراجی طاقتوں کے ایجنٹ ہیں اور عہدے کا فائدہ اُٹھا کر ناجائز طور پر دوسرے احمدیوں کی یا جماعت احمدیہ کی مدد کرتے ہیں اور خاص طور پر 1953ء کی شورش کے دوران سب سے زیادہ یہ الزام حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب پر لگایا گیا تھا۔اس بارے میں تحقیقاتی عدالت میں مودودی صاحب کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے 64