احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 63
ہماری خارجہ پالیسی دس لاکھ ٹن گندم کے عوض گروی رکھی ہوئی ہے۔گویا یہ سنسنی خیز انکشاف کیا جا رہا ہے کہ امریکہ اس شرط پر پاکستان کی مدد کرتا تھا کہ چوہدری ظفر اللہ خان کو وزیر خارجہ رکھو گے تو مدد ملے گی ورنہ نہیں۔گویا یہ ثبوت دیا جا رہا ہے کہ پاکستان میں احمدی مغربی طاقتوں کے ایجنٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔اس بارے میں حقائق پیش کرنے سے پہلے یہ واضح کرناضروری ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلہ میں نامکمل حوالہ پیش کیا گیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اس بیان میں مودودی صاحب نے فوراً یہ وضاحت پیش کر دی تھی کہ وہ ہرگز امریکہ کی حکومت کو کسی قسم کا الزام نہیں دے رہے۔انہوں نے کہا تھا: مگر مجھے یقین نہیں آتا کہ امریکی حکومت کا کوئی مد بر ایسا بیوقوف ہوسکتا ہے کہ وہ پاکستان کے ساڑھے آٹھ کروڑ باشندوں کی دوستی پر ایک شخص کی دوستی کو ترجیح دے اور 48 کروڑ روپے کے ایک دوستانہ تحفے سے باشندگان پاکستان کو احسان مند بنانے کی بجائے ان کے دلوں میں اپنی قوم کو اور حکومت کے خلاف الٹے سیاسی شکوک پیدا کر دے۔“ ( قادیانی مسئلہ اور اس کے مذہبی سیاسی اور معاشرتی پہلو ، از ابوالاعلیٰ مودودی صاحب، ناشر اسلامک پبلیکیشنز مئی 2000 صفحہ 135 ) مکمل حوالہ پڑھ کر یہی ظاہر ہوتا ہے کہ اس عدالتی فیصلہ میں ایک بے جان اعتراض میں زندگی کی روح پھونکنے کے لئے مودودی صاحب کے بیان کا سہارا لیا گیا تھا لیکن جب ہم پورا بیان پڑھتے ہیں تو وہ خود ہی اس مفروضے کی مکمل تردید کر دیتا ہے لیکن ہم مزید تسلی کے لئے کچھ مالی اعداد و شمار پیش کرتے ہیں۔جہاں تک پاکستان کے لئے امریکہ کی مدد کا تعلق ہے تو ہمیشہ سے سب سے متنازعہ ملٹری مدد رہی ہے۔دسمبر 1948ء سے چھ سال تک چوہدری ظفر اللہ خان صاحب پاکستان کے 63